ہیلری کلنٹن کے ساتھ کام اور غزہ جنگ پر ’خاموشی‘: ملالہ یوسفزئی کا تنقید پر جواب ’غزہ کے لوگوں کے لیے میری حمایت پر کوئی کنفیوژن نہیں ہونی چاہیے‘

Canada News News

ہیلری کلنٹن کے ساتھ کام اور غزہ جنگ پر ’خاموشی‘: ملالہ یوسفزئی کا تنقید پر جواب ’غزہ کے لوگوں کے لیے میری حمایت پر کوئی کنفیوژن نہیں ہونی چاہیے‘
Canada Latest News,Canada Headlines

نوبل انعام یافتہ پاکستانی ملالہ یوسفزئی گذشتہ کچھ دنوں سے سوشل میڈیا پر کڑی تنقید کی زد میں ہیں اور ان پر الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ انھوں نے غزہ پر اسرائیلی حملوں اور ہزاروں لوگوں کی اموات پر خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔

ہیلری کلنٹن کے ساتھ کام، غزہ جنگ پر ’خاموشی‘: غزہ کے لوگوں کے لیے میری حمایت پر کوئی کنفیوژن نہیں ہونی چاہیے، ملالہ کا تنقید پر جواباس سے قبل بھی ملالہ یوسفزئی پر غزہ میں جاری جنگ پر خاموشی اختیار کرنے پر تنقید ہوتی رہی ہے’غزہ میں جاری جنگ پر میری پوزیشن بالکل واضح ہے۔ جب ہمارے سامنے نسل کشی کی واضح مثال ہو تب ہمیں فیصلہ کُن ایکشن لینے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔ ہم سب کو ایک ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے، جہاں ہم جنگ میں جرائم کا ارتکاب کرنے والوں اور مجرموں کا احتساب کریں۔‘ نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی نے گذشتہ کچھ دنوں سے ’غزہ پر اسرائیلی حملوں اور ہزاروں فلسطینوں کی اموات پر خاموشی اختیار کرنے‘ کے باعث اپنے اوپر ہونے والی تنقید کا جواب کچھ ان الفاظ میں دیا ہے۔ غزہ میں جاری جنگ کے دوران سوشل میڈیا پر چند حلقے ملالہ یوسفزئی پر اس لیے تنقید کرتے ہیں کیونکہ اُن کے مطابق ملالہ واضح اور بھرپور انداز میں اس جنگ کے خلاف آواز بلند نہیں کرتی ہیں۔ حالیہ دنوں میں یہ تنقید اُس وقت مزید بڑھ گئی جب اُن کی سابق امریکی سیکریٹری خارجہ ہیلری کلنٹن کے ساتھ تصاویر منظرِ عام پر آئیں۔ ملالہ یوسفزئی اور ہیلری کلنٹن حال ہی میں ایک میوزیکل تھیٹر ’سُفس‘ بنانے کے لیے اُن کے ساتھ کام کرتی ہوئی نظر آئیں تھیں۔ یہ میوزیکل تھیٹر امریکہ میں 19ویں صدی کے اوائل میں خواتین کے ووٹ ڈالنے کا حق دلوانے کے لیے شروع کی گئی تحریک ’سفرگیٹ موومنٹ‘ کے بارے میں ہے۔ سوشل میڈیا پر ملالہ یوسفزئی پر تنقید کرنے والوں کا اعتراض اس بات پر بھی ہے کہ انھوں نے ہیلری کلنٹن کے ساتھ کیوں کام کیا۔ واضح رہے کہ غزہ جنگ کے تناظر میں سابق امریکہ وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن بھی پچھلے کئی مہینوں سے سوشل میڈیا پر تنقید کی زد میں ہیں۔ انھوں نے گذشتہ برس ایک امریکی جریدے ’دی اٹلانٹک‘ میں ایک تفصیلی مضمون لکھا تھا جس میں انھوں غزہ میں مکمل جنگ بندی کی مخالفت کی تھی۔ صرف یہی نہیں پاکستان میں ایک طبقہ ہیلری کلنٹن کو اس لیے بھی ناپسند کرتا ہے کیونکہ ان کی پارٹی کے دورِ حکومت میں پاکستان پر امریکہ ڈرون حملوں کی تعداد میں اضافہ ہوا تھا۔ دُنیا بھر میں خواتین کو تعلیم حاصل کرنے کا حق دلوانے کے لیے آواز اُٹھانے والی ملالہ یوسفزئی نے سوشل میڈیا پر تنقید کے بعد ایک وضاحتی بیان بھی جاری کیا۔ اس بیان میں انھوں نے غزہ میں جاری جنگ پر اپنا مؤقف دیتے ہوئے لکھا کہ ’کوئی ابہام نہ رہے، اس لیے میں یہ کہنا چاہتی ہوں کہ میں ماضی میں اور اب بھی اسرائیلی حکومت کی جانب سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی اور جرائم کی مخالفت کرتی رہوں گی۔‘ واضح رہے کہ اس سے قبل بھی ملالہ یوسفزئی پر غزہ میں جنگ پر خاموشی اختیار کرنے پر تنقید ہوتی رہی ہے اور ان کی جانب سے وضاحتی بیانات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ پاکستان میں ملالہ یوسفزئی کو ایسی شخصیت سمجھا حاتا ہے، جن کے نہ صرف الفاظ بلکہ خاموشی بھی خبر بن جاتی ہے۔ سنہ 2012 میں ملک میں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے آواز اُٹھانے کی پاداش میں پاکستانی طالبان نے ملالہ یوسفزئی پر حملہ کیا تھا جس میں وہ شدید زخمی ہوئی تھیں۔ ابتدائی علاج کے بعد انھیں مزید علاج کے لیے ہنگامی طور پر برطانیہ منتقل کیا گیا تھا۔سنہ 2012 میں ملک میں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے آواز اُٹھانے کی پاداش میں پاکستانی طالبان نے ملالہ یوسفزئی پر حملہ کیا پاکستان میں ہمیشہ سے ہی ملالہ یوسفزئی کے بارے میں منقسم آرا پائی جاتی ہے اور مختلف معاملات پر انھیں سوشل میڈیا پر انھیں شدید مخالفت کا سامنا رہتا ہے۔ اگر سوشل میڈیا پر جائزہ لیا جائے تو اس بار تنقید کرنے والوں میں وہ افراد بھی شامل ہیں جو ماضی میں ملالہ یوسفزئی کے حق میں بولتے ہوئے نظر آئے ہیں۔ طُوبیٰ مسعود نے ایکس پر لکھا کہ ’میں نے اس سے پہلے ایسا نہیں لکھا لیکن حد ہے ملالہ! اب آپ اتنی کم عمر نہیں ہو کہ صحیح فیصلہ نہ لے سکو۔ یہ ایک بہت ہی افسوسناک واقعہ ہے، ہیلری نہ صرف جنگ کی حمایت کرنے والوں میں سے ہیں بلکہ غریب ملکوں کی دشمن بھی رہی ہیں۔‘ جبکہ پروفیسر اور محقق ارسلان خان نے لکھا کہ ’اب ملالہ کی مزید طرفداری کرنا ممکن نہیں کیونکہ انھوں نے دائیں بازو کے بیانیے کو اپنا لیا ہے۔‘ ایک صارف ثنا سعید نے لکھا کہ ’بہت خوش آئند بات ہے کہ ملالہ سابق سیکریٹری آف سٹیٹ کے ساتھ شراکت کر رہی ہیں۔ یہ وہی سابق سیکریٹری ہیں جنھوں نے سی آئی اے کی طرف سے ڈرون حملوں کی حمایت کی، جس کے نتیجے میں وہاں تعلیم ختم ہو کر رہ گئی۔‘ واضح رہے کہ ملالہ یوسفزئی اور ہیلری کلنٹن کی شراکت داری پر ہونے والی تنقید صرف پاکستان تک ہی محدود نہیں بلکہ دنیا بھر میں بھی اس پراجیکٹ پر تنقید کی گئی۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Twitter کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Twitterاس بارے میں محقق اور لمز یونیورسٹی سے بطور اسسٹنٹ پروفیسر منسلک ندا کرمانی نے لکھا کہ ’یاد رہے کہ ملالہ کی جابر حکومتوں یا پالیسیوں کی حمایت نئی نہیں۔ وہ اس سے پہلے پاکستان میں دور دراز علاقوں میں ہونے والے جبر پر خاموش تھیں۔‘Twitter پوسٹ نظرانداز کریں, 2 اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Twitter کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Twitterغزہ کی اجتماعی قبروں میں لاپتہ اہلخانہ کی تلاش: ’ہم اس بات کی اجازت نہیں دے سکتے کہ یہ چھوٹا سا معاملہ بن کر دب جائے‘ امریکی محکمہ خارجہ کی سالانہ رپورٹ میں عمران خان اور ان کی جماعت کے بارے میں کیا کہا گیا اور کیا یہ پاکستان کے لیے مشکلات کھڑی کر سکتا ہے؟ ہیلری کلنٹن کے ساتھ کام، غزہ جنگ پر ’خاموشی‘: غزہ کے لوگوں کے لیے میری حمایت پر کوئی کنفیوژن نہیں ہونی چاہیے، ملالہ کا تنقید پر جواب ’مغوی‘ سعودی خاتون کراچی سے بازیاب، لوئر دیر سے تعلق رکھنے والا مبینہ ’اغوا کار‘ بھی زیرِ حراست: اسلام آباد پولیسجنوبی کوریا کے ’پہلے اور سب سے بڑے‘ سیکس فیسٹیول کی منسوخی: ’یہ میلہ خواتین کے لیے نہیں کیونکہ ٹکٹ خریدنے والے زیادہ تر مرد ہیں‘ خاتون فُٹ بال شائق کو گلے لگانے پر ایرانی گول کیپر پر 30 کروڑ تومان جُرمانہ عائد: ’یہ تاریخ میں گلے ملنے کا سب سے مہنگا واقعہ ثابت ہوا‘ امریکی محکمہ خارجہ کی سالانہ رپورٹ میں عمران خان اور ان کی جماعت کے بارے میں کیا کہا گیا اور کیا یہ پاکستان کے لیے مشکلات کھڑی کر سکتا ہے؟ ہیلری کلنٹن کے ساتھ کام، غزہ جنگ پر ’خاموشی‘: غزہ کے لوگوں کے لیے میری حمایت پر کوئی کنفیوژن نہیں ہونی چاہیے، ملالہ کا تنقید پر جوابغزہ کی اجتماعی قبروں میں لاپتہ اہلخانہ کی تلاش: ’ہم اس بات کی اجازت نہیں دے سکتے کہ یہ چھوٹا سا معاملہ بن کر دب جائے‘ ’مغوی‘ سعودی خاتون کراچی سے بازیاب، لوئر دیر سے تعلق رکھنے والا مبینہ ’اغوا کار‘ بھی زیرِ حراست: اسلام آباد پولیس جنوبی کوریا کے ’پہلے اور سب سے بڑے‘ سیکس فیسٹیول کی منسوخی: ’یہ میلہ خواتین کے لیے نہیں کیونکہ ٹکٹ خریدنے والے زیادہ تر مرد ہیں‘.

ہیلری کلنٹن کے ساتھ کام، غزہ جنگ پر ’خاموشی‘: غزہ کے لوگوں کے لیے میری حمایت پر کوئی کنفیوژن نہیں ہونی چاہیے، ملالہ کا تنقید پر جواباس سے قبل بھی ملالہ یوسفزئی پر غزہ میں جاری جنگ پر خاموشی اختیار کرنے پر تنقید ہوتی رہی ہے’غزہ میں جاری جنگ پر میری پوزیشن بالکل واضح ہے۔ جب ہمارے سامنے نسل کشی کی واضح مثال ہو تب ہمیں فیصلہ کُن ایکشن لینے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔ ہم سب کو ایک ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے، جہاں ہم جنگ میں جرائم کا ارتکاب کرنے والوں اور مجرموں کا احتساب کریں۔‘ نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی نے گذشتہ کچھ دنوں سے ’غزہ پر اسرائیلی حملوں اور ہزاروں فلسطینوں کی اموات پر خاموشی اختیار کرنے‘ کے باعث اپنے اوپر ہونے والی تنقید کا جواب کچھ ان الفاظ میں دیا ہے۔ غزہ میں جاری جنگ کے دوران سوشل میڈیا پر چند حلقے ملالہ یوسفزئی پر اس لیے تنقید کرتے ہیں کیونکہ اُن کے مطابق ملالہ واضح اور بھرپور انداز میں اس جنگ کے خلاف آواز بلند نہیں کرتی ہیں۔ حالیہ دنوں میں یہ تنقید اُس وقت مزید بڑھ گئی جب اُن کی سابق امریکی سیکریٹری خارجہ ہیلری کلنٹن کے ساتھ تصاویر منظرِ عام پر آئیں۔ ملالہ یوسفزئی اور ہیلری کلنٹن حال ہی میں ایک میوزیکل تھیٹر ’سُفس‘ بنانے کے لیے اُن کے ساتھ کام کرتی ہوئی نظر آئیں تھیں۔ یہ میوزیکل تھیٹر امریکہ میں 19ویں صدی کے اوائل میں خواتین کے ووٹ ڈالنے کا حق دلوانے کے لیے شروع کی گئی تحریک ’سفرگیٹ موومنٹ‘ کے بارے میں ہے۔ سوشل میڈیا پر ملالہ یوسفزئی پر تنقید کرنے والوں کا اعتراض اس بات پر بھی ہے کہ انھوں نے ہیلری کلنٹن کے ساتھ کیوں کام کیا۔ واضح رہے کہ غزہ جنگ کے تناظر میں سابق امریکہ وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن بھی پچھلے کئی مہینوں سے سوشل میڈیا پر تنقید کی زد میں ہیں۔ انھوں نے گذشتہ برس ایک امریکی جریدے ’دی اٹلانٹک‘ میں ایک تفصیلی مضمون لکھا تھا جس میں انھوں غزہ میں مکمل جنگ بندی کی مخالفت کی تھی۔ صرف یہی نہیں پاکستان میں ایک طبقہ ہیلری کلنٹن کو اس لیے بھی ناپسند کرتا ہے کیونکہ ان کی پارٹی کے دورِ حکومت میں پاکستان پر امریکہ ڈرون حملوں کی تعداد میں اضافہ ہوا تھا۔ دُنیا بھر میں خواتین کو تعلیم حاصل کرنے کا حق دلوانے کے لیے آواز اُٹھانے والی ملالہ یوسفزئی نے سوشل میڈیا پر تنقید کے بعد ایک وضاحتی بیان بھی جاری کیا۔ اس بیان میں انھوں نے غزہ میں جاری جنگ پر اپنا مؤقف دیتے ہوئے لکھا کہ ’کوئی ابہام نہ رہے، اس لیے میں یہ کہنا چاہتی ہوں کہ میں ماضی میں اور اب بھی اسرائیلی حکومت کی جانب سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی اور جرائم کی مخالفت کرتی رہوں گی۔‘ واضح رہے کہ اس سے قبل بھی ملالہ یوسفزئی پر غزہ میں جنگ پر خاموشی اختیار کرنے پر تنقید ہوتی رہی ہے اور ان کی جانب سے وضاحتی بیانات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ پاکستان میں ملالہ یوسفزئی کو ایسی شخصیت سمجھا حاتا ہے، جن کے نہ صرف الفاظ بلکہ خاموشی بھی خبر بن جاتی ہے۔ سنہ 2012 میں ملک میں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے آواز اُٹھانے کی پاداش میں پاکستانی طالبان نے ملالہ یوسفزئی پر حملہ کیا تھا جس میں وہ شدید زخمی ہوئی تھیں۔ ابتدائی علاج کے بعد انھیں مزید علاج کے لیے ہنگامی طور پر برطانیہ منتقل کیا گیا تھا۔سنہ 2012 میں ملک میں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے آواز اُٹھانے کی پاداش میں پاکستانی طالبان نے ملالہ یوسفزئی پر حملہ کیا پاکستان میں ہمیشہ سے ہی ملالہ یوسفزئی کے بارے میں منقسم آرا پائی جاتی ہے اور مختلف معاملات پر انھیں سوشل میڈیا پر انھیں شدید مخالفت کا سامنا رہتا ہے۔ اگر سوشل میڈیا پر جائزہ لیا جائے تو اس بار تنقید کرنے والوں میں وہ افراد بھی شامل ہیں جو ماضی میں ملالہ یوسفزئی کے حق میں بولتے ہوئے نظر آئے ہیں۔ طُوبیٰ مسعود نے ایکس پر لکھا کہ ’میں نے اس سے پہلے ایسا نہیں لکھا لیکن حد ہے ملالہ! اب آپ اتنی کم عمر نہیں ہو کہ صحیح فیصلہ نہ لے سکو۔ یہ ایک بہت ہی افسوسناک واقعہ ہے، ہیلری نہ صرف جنگ کی حمایت کرنے والوں میں سے ہیں بلکہ غریب ملکوں کی دشمن بھی رہی ہیں۔‘ جبکہ پروفیسر اور محقق ارسلان خان نے لکھا کہ ’اب ملالہ کی مزید طرفداری کرنا ممکن نہیں کیونکہ انھوں نے دائیں بازو کے بیانیے کو اپنا لیا ہے۔‘ ایک صارف ثنا سعید نے لکھا کہ ’بہت خوش آئند بات ہے کہ ملالہ سابق سیکریٹری آف سٹیٹ کے ساتھ شراکت کر رہی ہیں۔ یہ وہی سابق سیکریٹری ہیں جنھوں نے سی آئی اے کی طرف سے ڈرون حملوں کی حمایت کی، جس کے نتیجے میں وہاں تعلیم ختم ہو کر رہ گئی۔‘ واضح رہے کہ ملالہ یوسفزئی اور ہیلری کلنٹن کی شراکت داری پر ہونے والی تنقید صرف پاکستان تک ہی محدود نہیں بلکہ دنیا بھر میں بھی اس پراجیکٹ پر تنقید کی گئی۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Twitter کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Twitterاس بارے میں محقق اور لمز یونیورسٹی سے بطور اسسٹنٹ پروفیسر منسلک ندا کرمانی نے لکھا کہ ’یاد رہے کہ ملالہ کی جابر حکومتوں یا پالیسیوں کی حمایت نئی نہیں۔ وہ اس سے پہلے پاکستان میں دور دراز علاقوں میں ہونے والے جبر پر خاموش تھیں۔‘Twitter پوسٹ نظرانداز کریں, 2 اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Twitter کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Twitterغزہ کی اجتماعی قبروں میں لاپتہ اہلخانہ کی تلاش: ’ہم اس بات کی اجازت نہیں دے سکتے کہ یہ چھوٹا سا معاملہ بن کر دب جائے‘ امریکی محکمہ خارجہ کی سالانہ رپورٹ میں عمران خان اور ان کی جماعت کے بارے میں کیا کہا گیا اور کیا یہ پاکستان کے لیے مشکلات کھڑی کر سکتا ہے؟ ہیلری کلنٹن کے ساتھ کام، غزہ جنگ پر ’خاموشی‘: غزہ کے لوگوں کے لیے میری حمایت پر کوئی کنفیوژن نہیں ہونی چاہیے، ملالہ کا تنقید پر جواب ’مغوی‘ سعودی خاتون کراچی سے بازیاب، لوئر دیر سے تعلق رکھنے والا مبینہ ’اغوا کار‘ بھی زیرِ حراست: اسلام آباد پولیسجنوبی کوریا کے ’پہلے اور سب سے بڑے‘ سیکس فیسٹیول کی منسوخی: ’یہ میلہ خواتین کے لیے نہیں کیونکہ ٹکٹ خریدنے والے زیادہ تر مرد ہیں‘ خاتون فُٹ بال شائق کو گلے لگانے پر ایرانی گول کیپر پر 30 کروڑ تومان جُرمانہ عائد: ’یہ تاریخ میں گلے ملنے کا سب سے مہنگا واقعہ ثابت ہوا‘ امریکی محکمہ خارجہ کی سالانہ رپورٹ میں عمران خان اور ان کی جماعت کے بارے میں کیا کہا گیا اور کیا یہ پاکستان کے لیے مشکلات کھڑی کر سکتا ہے؟ ہیلری کلنٹن کے ساتھ کام، غزہ جنگ پر ’خاموشی‘: غزہ کے لوگوں کے لیے میری حمایت پر کوئی کنفیوژن نہیں ہونی چاہیے، ملالہ کا تنقید پر جوابغزہ کی اجتماعی قبروں میں لاپتہ اہلخانہ کی تلاش: ’ہم اس بات کی اجازت نہیں دے سکتے کہ یہ چھوٹا سا معاملہ بن کر دب جائے‘ ’مغوی‘ سعودی خاتون کراچی سے بازیاب، لوئر دیر سے تعلق رکھنے والا مبینہ ’اغوا کار‘ بھی زیرِ حراست: اسلام آباد پولیس جنوبی کوریا کے ’پہلے اور سب سے بڑے‘ سیکس فیسٹیول کی منسوخی: ’یہ میلہ خواتین کے لیے نہیں کیونکہ ٹکٹ خریدنے والے زیادہ تر مرد ہیں‘

We have summarized this news so that you can read it quickly. If you are interested in the news, you can read the full text here. Read more:

BBCUrdu /  🏆 11. in PK

 

Canada Latest News, Canada Headlines

Similar News:You can also read news stories similar to this one that we have collected from other news sources.

اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت روکنے کا مطالبہ: امریکہ اور جرمنی سمیت وہ ممالک جو اسرائیلی فوج کو جدید اسلحہ فراہم کرتے ہیںاسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت روکنے کا مطالبہ: امریکہ اور جرمنی سمیت وہ ممالک جو اسرائیلی فوج کو جدید اسلحہ فراہم کرتے ہیںاسرائیل کی غزہ میں حماس کے خلاف جنگ کے طریقے پر اب سوال اٹھنے لگے ہیں اور مغربی ممالک پر اسرائیل کو ہتھیار فروخت کرنا روکنے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔
Read more »

غزہ میں بچوں کی اموات تمام انسانیت پر دھبہ ہیں: سربراہ عالمی ادارہ صحتغزہ میں بچوں کی اموات تمام انسانیت پر دھبہ ہیں: سربراہ عالمی ادارہ صحتغزہ کے بچوں کے زخم اور ان کی اموات انسانیت پر داغ بنے رہیں گے، موجودہ اور آنے والی نسلوں پر یہ حملے ختم ہونے چاہئیں، ٹیڈروس ایڈہانوم
Read more »

وزیراعظم اور سعودی ولی عہد میں ملاقات: 5 ارب ڈالر کا سرمایہ کاری پیکیج جلد مکمل کرنے پر اتفاقوزیراعظم اور سعودی ولی عہد میں ملاقات: 5 ارب ڈالر کا سرمایہ کاری پیکیج جلد مکمل کرنے پر اتفاقرہنماؤں کا اسرائیل کے غزہ میں غیرقانونی اقدامات کو روکنے اور غزہ تک امداد کی بلاروک ٹوک فراہمی پر زور، اعلامیہ جاری
Read more »

غزہ جنگ کیخلاف امریکیوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر، ٹریفک جامغزہ جنگ کیخلاف امریکیوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر، ٹریفک جامغزہ میں اسرائیلی بمباری کے خلاف ہزاروں امریکی سان فرانسسکو میں سڑکوں پر نکل آئے اور جنگ بندی کا پر زور مطالبہ کیا۔
Read more »

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کا خدشہاسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کا خدشہفلسطینوں پر ظلم کے پہاڑ ڈھانے اور غزہ کو ملبے کا ڈھیر بنانے والی غاصب صہیونی ریاست اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری جانے ہونے کا خدشہ ہے۔
Read more »

ہم غزہ میں مزید لاشیں، اسکولوں پر بم باری نہیں دیکھ سکتے، ملالہہم غزہ میں مزید لاشیں، اسکولوں پر بم باری نہیں دیکھ سکتے، ملالہاپنے ایک بیان میں ملالہ کا کہنا تھا کہ گزشتہ 6 ماہ سے غزہ کے فلسطینیوں پر مظالم دیکھ کر شدید غصہ اور مایوسی ہے۔
Read more »



Render Time: 2026-05-16 06:28:28