چرسدہ میں مذہبی اسکالر مولانا شیخ ادریس کا قتل، تحقیقاتی ٹیم تشکیل

جرم و سزا News

چرسدہ میں مذہبی اسکالر مولانا شیخ ادریس کا قتل، تحقیقاتی ٹیم تشکیل
مولانا شیخ ادریسقتلچرسدہ

چرسدہ میں نامعلوم افراد نے مولانا شیخ ادریس کو گولی مار کر شہید کر دیا، پولیس نے تحقیقات شروع کر دیں اور سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر لی ہے۔

پشاور (اے پی پی) – چرسدہ میں معروف مذہبی اسکالر مولانا شیخ ادریس کے قتل کے سلسلے میں پولیس نے آس پاس کے علاقوں سے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر لی ہے اور مشتبہ افراد کی شناخت اور گرفتاری میں مدد کے لیے اسے مکمل طور پر زیرِ غور لایا جا رہا ہے۔ ضلع پولیس افسر وقاص خان نے اس واقعہ پر گہری رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک وحشیانہ اور ناقابلِ برداشت عمل قرار دیا، چرسدہ پولیس کے ترجمان نے بتایا۔ ڈی پی او نے کہا کہ مولانا شیخ ادریس کی شہادت نہ صرف ان کے خاندان کے لیے بلکہ معاشرے اور مذہبی حلقوں کے لیے بھی ایک بہت بڑا نقصان ہے، انہوں نے مزید کہا کہ پولیس سوگوار خاندان کے ساتھ مکمل طور پر کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہے۔ واقعہ کے دوران، دو پولیس اہلکاروں بشمول کانسٹیبل شیر عالم اور کانسٹیبل پرویز خان بھی زخمی ہوئے، انہوں نے ان کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی، علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور شواہد جمع کیے، اور ساتھ ہی آس پاس کے علاقوں سے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر لی گئی ہے جسے مشتبہ افراد کی شناخت اور گرفتاری میں مدد کے لیے مکمل طور پر زیرِ غور لایا جا رہا ہے۔ جامع اور شفاف تفتیش کے لیے ایس پی انویسٹی گیشن عالم زیب خان کی نگرانی میں ایک خصوصی تحقیقات ی ٹیم تشکیل کی گئی ہے۔ ٹیم کو جدید سائنسی طریقوں پر کارروائی کرنے کی ہدایت کی گئی ہے اور ملوث افراد کی جلد گرفتاری کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری وسائل فراہم کیے گئے ہیں۔ ڈی پی او نے یقین دہانی کرائی کہ اس گھناؤنے جرم میں ملوث مجرموں کو جلد ہی انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور انہیں عبرتناک سزا دی جائے گی۔ معروف مذہبی اسکالر اور سابق ایم پی اے مولانا ادریس کو چرسدہ کے اتمنزئی علاقے میں نامعلوم مسلح حملہ آوروں نے گولی مار کر شہید کر دیا۔ مولانا شیخ ادریس کی شہادت ایک ناقابل بیان سانحہ ہے جس نے پورے علاقے کو غم میں ڈبو دیا ہے۔ وہ ایک باوقار شخصیت تھے جنھوں نے اپنی زندگی دین کی خدمت اور لوگوں کی رہنمائی میں گزاری۔ ان کی علمی خدمات اور اخلاقی اقدار کی وجہ سے وہ ہر مکتبہ فکر کے لوگوں میں احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ مولانا ادریس نے ہمیشہ امن، بھائی چارے اور ملک کی ترقی کا پیغام دیا اور اپنے خطبوں اور تصنیفات کے ذریعے لوگوں کو صحیح راہ دکھائی۔ ان کی شہادت سے نہ صرف مذہبی بلکہ سماجی حلقوں میں بھی گہری چوک آ گئی ہے۔ عوام اور علماء کرام نے اس واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت سے فوری طور پر مجرموں کو گرفتار کرنے اور انھیں سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ چرسدہ پولیس نے واقعہ کی تفتیش کے لیے تمام تر وسائل متحرک کر دیے ہیں اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے حملہ آوروں کی شناخت کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ڈی پی او وقاص خان نے یقین دہانی کرائی ہے کہ پولیس کسی بھی صورت میں مجرموں کو نہیں چھوڑے گی اور انھیں قانون کے ہاتھوں کی سزا دلائے گی۔ اس واقعہ کے ساتھ ہی، ’سپر ایل نینو ‘ کے خطرات نے بھی ایشیا میں تشویش پیدا کر دی ہے، جو مشرق وسطیٰ کے تنازع سے پہلے ہی متاثر ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سال آنے والا ایل نینو گزشتہ کئی دہائیوں میں آنے والے ایل نینو سے زیادہ شدید ہو سکتا ہے، جس سے ایشیا میں شدید موسمیاتی تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔ اس سے سیلاب، خشک سالی، گرمی کی لہریں اور طوفان جیسے قدرتی آفات کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کی وجہ سے پہلے ہی لاکھوں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں اور خوراک اور پانی کی قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے میں ایل نینو کی وجہ سے پیدا ہونے والے قدرتی آفات ان لوگوں کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔ ماہرین نے حکومتوں اور بین الاقوامی اداروں سے فوری طور پر ایل نینو کے خطرات سے نمٹنے کے لیے اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان میں ابتدائی وارننگ سسٹم کو مضبوط کرنا، ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے لیے تیاری کرنا اور متاثرہ لوگوں کو امداد فراہم کرنا شامل ہے۔ مولانا ادریس کی شہادت اور سپر ایل نینو کے خطرات دونوں ہی ایشیا کے لیے سنگین چیلنج ہیں جن سے نمٹنے کے لیے فوری اور موثر اقدامات کی ضرورت ہے.

پشاور (اے پی پی) – چرسدہ میں معروف مذہبی اسکالر مولانا شیخ ادریس کے قتل کے سلسلے میں پولیس نے آس پاس کے علاقوں سے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر لی ہے اور مشتبہ افراد کی شناخت اور گرفتاری میں مدد کے لیے اسے مکمل طور پر زیرِ غور لایا جا رہا ہے۔ ضلع پولیس افسر وقاص خان نے اس واقعہ پر گہری رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک وحشیانہ اور ناقابلِ برداشت عمل قرار دیا، چرسدہ پولیس کے ترجمان نے بتایا۔ ڈی پی او نے کہا کہ مولانا شیخ ادریس کی شہادت نہ صرف ان کے خاندان کے لیے بلکہ معاشرے اور مذہبی حلقوں کے لیے بھی ایک بہت بڑا نقصان ہے، انہوں نے مزید کہا کہ پولیس سوگوار خاندان کے ساتھ مکمل طور پر کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہے۔ واقعہ کے دوران، دو پولیس اہلکاروں بشمول کانسٹیبل شیر عالم اور کانسٹیبل پرویز خان بھی زخمی ہوئے، انہوں نے ان کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی، علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور شواہد جمع کیے، اور ساتھ ہی آس پاس کے علاقوں سے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر لی گئی ہے جسے مشتبہ افراد کی شناخت اور گرفتاری میں مدد کے لیے مکمل طور پر زیرِ غور لایا جا رہا ہے۔ جامع اور شفاف تفتیش کے لیے ایس پی انویسٹی گیشن عالم زیب خان کی نگرانی میں ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل کی گئی ہے۔ ٹیم کو جدید سائنسی طریقوں پر کارروائی کرنے کی ہدایت کی گئی ہے اور ملوث افراد کی جلد گرفتاری کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری وسائل فراہم کیے گئے ہیں۔ ڈی پی او نے یقین دہانی کرائی کہ اس گھناؤنے جرم میں ملوث مجرموں کو جلد ہی انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور انہیں عبرتناک سزا دی جائے گی۔ معروف مذہبی اسکالر اور سابق ایم پی اے مولانا ادریس کو چرسدہ کے اتمنزئی علاقے میں نامعلوم مسلح حملہ آوروں نے گولی مار کر شہید کر دیا۔ مولانا شیخ ادریس کی شہادت ایک ناقابل بیان سانحہ ہے جس نے پورے علاقے کو غم میں ڈبو دیا ہے۔ وہ ایک باوقار شخصیت تھے جنھوں نے اپنی زندگی دین کی خدمت اور لوگوں کی رہنمائی میں گزاری۔ ان کی علمی خدمات اور اخلاقی اقدار کی وجہ سے وہ ہر مکتبہ فکر کے لوگوں میں احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ مولانا ادریس نے ہمیشہ امن، بھائی چارے اور ملک کی ترقی کا پیغام دیا اور اپنے خطبوں اور تصنیفات کے ذریعے لوگوں کو صحیح راہ دکھائی۔ ان کی شہادت سے نہ صرف مذہبی بلکہ سماجی حلقوں میں بھی گہری چوک آ گئی ہے۔ عوام اور علماء کرام نے اس واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت سے فوری طور پر مجرموں کو گرفتار کرنے اور انھیں سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ چرسدہ پولیس نے واقعہ کی تفتیش کے لیے تمام تر وسائل متحرک کر دیے ہیں اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے حملہ آوروں کی شناخت کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ڈی پی او وقاص خان نے یقین دہانی کرائی ہے کہ پولیس کسی بھی صورت میں مجرموں کو نہیں چھوڑے گی اور انھیں قانون کے ہاتھوں کی سزا دلائے گی۔ اس واقعہ کے ساتھ ہی، ’سپر ایل نینو‘ کے خطرات نے بھی ایشیا میں تشویش پیدا کر دی ہے، جو مشرق وسطیٰ کے تنازع سے پہلے ہی متاثر ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سال آنے والا ایل نینو گزشتہ کئی دہائیوں میں آنے والے ایل نینو سے زیادہ شدید ہو سکتا ہے، جس سے ایشیا میں شدید موسمیاتی تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔ اس سے سیلاب، خشک سالی، گرمی کی لہریں اور طوفان جیسے قدرتی آفات کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کی وجہ سے پہلے ہی لاکھوں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں اور خوراک اور پانی کی قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے میں ایل نینو کی وجہ سے پیدا ہونے والے قدرتی آفات ان لوگوں کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔ ماہرین نے حکومتوں اور بین الاقوامی اداروں سے فوری طور پر ایل نینو کے خطرات سے نمٹنے کے لیے اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان میں ابتدائی وارننگ سسٹم کو مضبوط کرنا، ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے لیے تیاری کرنا اور متاثرہ لوگوں کو امداد فراہم کرنا شامل ہے۔ مولانا ادریس کی شہادت اور سپر ایل نینو کے خطرات دونوں ہی ایشیا کے لیے سنگین چیلنج ہیں جن سے نمٹنے کے لیے فوری اور موثر اقدامات کی ضرورت ہے

We have summarized this news so that you can read it quickly. If you are interested in the news, you can read the full text here. Read more:

DunyaNews /  🏆 1. in PK

مولانا شیخ ادریس قتل چرسدہ پولیس تحقیقات سی سی ٹی وی فوٹیج ایل نینو مشرق وسطیٰ قدرتی آفات

 

United States Latest News, United States Headlines



Render Time: 2026-05-05 14:50:57