وفاقی عدالت نے عائشہ طارق نامی لڑکی کی عمر کی تصدیق کیلئے میڈیکل ٹیسٹ کا حکم دیا اور نادرا ریکارڈ پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اسے دارالامان لاہور بھیجنے کا فیصلہ کیا۔
وفاقی آئینی عدالت نے ایک انتہائی حساس کیس کی سماعت کے دوران اسلام قبول کرنے والی ایک لڑکی، عائشہ طارق ، کی عمر کے تعین کیلئے طبی ٹیسٹ کرانے اور اسے عارضی طور پر دارالامان لاہور منتقل کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے اس کیس کی تفصیلی سماعت کی جس میں لڑکی کی اصل عمر اور اس کے مستقبل کے تحفظ سے متعلق اہم بحث ہوئی۔ سماعت کے دوران والدین کے قانونی نمائندے نے عدالت کو بتایا کہ عائشہ کی عمر صرف 15 سال ہے اور اس وجہ سے یہ شدید خدشہ موجود ہے کہ اس نے کسی کے ساتھ شادی کر لی ہو، جس کی وجہ سے اس کی قانونی حیثیت اور تحفظ پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ دوسری جانب، عائشہ طارق نے عدالت کے سامنے اپنا موقف پیش کرتے ہوئے واضح طور پر کہا کہ اس نے دو سال پہلے اسلام قبول کیا تھا اور اگر اسے شادی کرنی ہوتی تو وہ اب تک کر چکی ہوتی۔ اس نے دعویٰ کیا کہ اس کی اصل عمر 20 سال ہے لیکن اس کے والدین نے نادرا کے ریکارڈ میں اس کی عمر کم لکھوائی تھی تاکہ وہ اسے اپنی مرضی کے مطابق کنٹرول کر سکیں یا کسی اور مقصد کے لیے اس کی عمر کم دکھائی گئی ہو۔ عدالتی کارروائی کے دوران جب والدین کے وکیل نے یہ دلیل پیش کی کہ نادرا کے ریکارڈ کے ساتھ چھیڑچھاڑ کرنا ناممکن ہے اور اس لیے عمر کے تعین کیلئے دوبارہ ٹیسٹ کرانا وقت کا ضیاع ہوگا، تو جسٹس عامر فاروق نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے اس دلیل کو مسترد کر دیا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ کوئی یہ کیسے کہہ سکتا ہے کہ نادرا ریکارڈ میں تبدیلی ممکن نہیں ہے، انہوں نے تلخی کے ساتھ کہا کہ یہ پاکستان ہے اور یہاں کچھ بھی ہو سکتا ہے، بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ریکارڈز میں تبدیلی ایک عام بات بن چکی ہے، اس لیے محض کاغذات پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ بہت سے والدین اپنے بچوں کی عمر میں تبدیلی کرواتے ہیں تاکہ قانونی پیچیدگیوں سے بچا جا سکے یا اپنی مرضی مسلط کی جا سکے، لہٰذا سچائی تک پہنچنے کے لیے میڈیکل ٹیسٹ ہی واحد قابل اعتماد ذریعہ ہے۔ جسٹس کے کے آغا خان نے بھی سماعت کے دوران عائشہ سے سوال کیا کہ مذہب کی تبدیلی ایک علیحدہ اور ذاتی معاملہ ہے لیکن اس نے اپنا گھر کیوں چھوڑا اور وہ کس صورتحال میں زندگی گزار رہی ہے۔ عائشہ طارق نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اس کے گھر والے اس پر مذہب تبدیل کرنے کے حوالے سے شدید دباؤ ڈالتے تھے اور اس کی زندگی مشکل ہو چکی تھی جس کی وجہ سے اسے گھر چھوڑنا پڑا۔ جب عدالت نے اس کی موجودہ رہائش اور روزگار کے بارے میں پوچھا تو اس نے بتایا کہ وہ ایک بیوٹی پارلر میں ملازمت کرتی ہے اور اسی پارلر میں رہائش پذیر ہے، جہاں وہ اپنی ضروریات زندگی پوری کر رہی ہے۔ عدالت نے ان تمام حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم دیا کہ لڑکی کو فوری طور پر دارالامان لاہور بھیجا جائے تاکہ اسے تحفظ فراہم کیا جا سکے اور ایک ہفتے کے اندر اندر اس کی عمر کے تعین کیلئے ضروری طبی ٹیسٹ مکمل کر کے رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے۔ اس فیصلے کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ اگر لڑکی واقعی نابالغ ہے تو اس کے حقوق کا تحفظ کیا جائے اور اگر وہ بالغ ہے تو اسے اپنی زندگی کے فیصلے کرنے کی قانونی آزادی حاصل ہو۔ یہ کیس پاکستان میں مذہب کی تبدیلی ، نادرا کے ریکارڈ کی شفافیت اور خاندانی دباؤ جیسے اہم سماجی و قانونی مسائل کی عکاسی کرتا ہے، جس پر عدالت نے اپنی سخت نظر رکھی ہوئی ہے.
وفاقی آئینی عدالت نے ایک انتہائی حساس کیس کی سماعت کے دوران اسلام قبول کرنے والی ایک لڑکی، عائشہ طارق، کی عمر کے تعین کیلئے طبی ٹیسٹ کرانے اور اسے عارضی طور پر دارالامان لاہور منتقل کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے اس کیس کی تفصیلی سماعت کی جس میں لڑکی کی اصل عمر اور اس کے مستقبل کے تحفظ سے متعلق اہم بحث ہوئی۔ سماعت کے دوران والدین کے قانونی نمائندے نے عدالت کو بتایا کہ عائشہ کی عمر صرف 15 سال ہے اور اس وجہ سے یہ شدید خدشہ موجود ہے کہ اس نے کسی کے ساتھ شادی کر لی ہو، جس کی وجہ سے اس کی قانونی حیثیت اور تحفظ پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ دوسری جانب، عائشہ طارق نے عدالت کے سامنے اپنا موقف پیش کرتے ہوئے واضح طور پر کہا کہ اس نے دو سال پہلے اسلام قبول کیا تھا اور اگر اسے شادی کرنی ہوتی تو وہ اب تک کر چکی ہوتی۔ اس نے دعویٰ کیا کہ اس کی اصل عمر 20 سال ہے لیکن اس کے والدین نے نادرا کے ریکارڈ میں اس کی عمر کم لکھوائی تھی تاکہ وہ اسے اپنی مرضی کے مطابق کنٹرول کر سکیں یا کسی اور مقصد کے لیے اس کی عمر کم دکھائی گئی ہو۔ عدالتی کارروائی کے دوران جب والدین کے وکیل نے یہ دلیل پیش کی کہ نادرا کے ریکارڈ کے ساتھ چھیڑچھاڑ کرنا ناممکن ہے اور اس لیے عمر کے تعین کیلئے دوبارہ ٹیسٹ کرانا وقت کا ضیاع ہوگا، تو جسٹس عامر فاروق نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے اس دلیل کو مسترد کر دیا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ کوئی یہ کیسے کہہ سکتا ہے کہ نادرا ریکارڈ میں تبدیلی ممکن نہیں ہے، انہوں نے تلخی کے ساتھ کہا کہ یہ پاکستان ہے اور یہاں کچھ بھی ہو سکتا ہے، بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ریکارڈز میں تبدیلی ایک عام بات بن چکی ہے، اس لیے محض کاغذات پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ بہت سے والدین اپنے بچوں کی عمر میں تبدیلی کرواتے ہیں تاکہ قانونی پیچیدگیوں سے بچا جا سکے یا اپنی مرضی مسلط کی جا سکے، لہٰذا سچائی تک پہنچنے کے لیے میڈیکل ٹیسٹ ہی واحد قابل اعتماد ذریعہ ہے۔ جسٹس کے کے آغا خان نے بھی سماعت کے دوران عائشہ سے سوال کیا کہ مذہب کی تبدیلی ایک علیحدہ اور ذاتی معاملہ ہے لیکن اس نے اپنا گھر کیوں چھوڑا اور وہ کس صورتحال میں زندگی گزار رہی ہے۔ عائشہ طارق نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اس کے گھر والے اس پر مذہب تبدیل کرنے کے حوالے سے شدید دباؤ ڈالتے تھے اور اس کی زندگی مشکل ہو چکی تھی جس کی وجہ سے اسے گھر چھوڑنا پڑا۔ جب عدالت نے اس کی موجودہ رہائش اور روزگار کے بارے میں پوچھا تو اس نے بتایا کہ وہ ایک بیوٹی پارلر میں ملازمت کرتی ہے اور اسی پارلر میں رہائش پذیر ہے، جہاں وہ اپنی ضروریات زندگی پوری کر رہی ہے۔ عدالت نے ان تمام حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم دیا کہ لڑکی کو فوری طور پر دارالامان لاہور بھیجا جائے تاکہ اسے تحفظ فراہم کیا جا سکے اور ایک ہفتے کے اندر اندر اس کی عمر کے تعین کیلئے ضروری طبی ٹیسٹ مکمل کر کے رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے۔ اس فیصلے کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ اگر لڑکی واقعی نابالغ ہے تو اس کے حقوق کا تحفظ کیا جائے اور اگر وہ بالغ ہے تو اسے اپنی زندگی کے فیصلے کرنے کی قانونی آزادی حاصل ہو۔ یہ کیس پاکستان میں مذہب کی تبدیلی، نادرا کے ریکارڈ کی شفافیت اور خاندانی دباؤ جیسے اہم سماجی و قانونی مسائل کی عکاسی کرتا ہے، جس پر عدالت نے اپنی سخت نظر رکھی ہوئی ہے
وفاقی عدالت عائشہ طارق دارالامان لاہور نادرا ریکارڈ مذہب کی تبدیلی
