مشرقِ وسطیٰ میں نیا فوجی اتحاد؟ قطر کے سابق وزیراعظم کی تجویز اور خطے کی بدلتی صورتحال

بین الاقوامی News

مشرقِ وسطیٰ میں نیا فوجی اتحاد؟ قطر کے سابق وزیراعظم کی تجویز اور خطے کی بدلتی صورتحال
مشرقِ وسطیٰفوجی اتحادقطر

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے پیشِ نظر، قطر کے سابق وزیراعظم حمد بن جاسم کی تجویز نے عرب و اسلامی فوجی اتحاد کی بحث کو جنم دیا ہے۔ اس تجویز میں نیٹو طرز کے اتحاد کی تشکیل پر زور دیا گیا ہے، جس میں سعودی عرب، ترکی اور پاکستان اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے تناظر میں، قطر کے سابق وزیرِ اعظم حمد بن جاسم بن جبر آل ثانی کی تجویز نے ایک مرتبہ پھر عرب و اسلامی فوجی اتحاد کے قیام کی بحث کو ہوا دی ہے۔ حمد بن جاسم نے خلیجی تعاون کونسل ( جی سی سی ) کے رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے اختلافات کو ختم کر کے ایک مؤثر فوجی اور سلامتی اتحاد قائم کریں، جو نیٹو کی طرز پر ہو، اور جس میں سعودی عرب کلیدی کردار ادا کرے۔ انہوں نے پاکستان اور ترکی کے ساتھ قریبی تعاون کی اہمیت پر بھی زور دیا ہے۔ یہ

تجویز ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ نے ایران کے خلاف ممکنہ حملے کے لیے مشرقِ وسطیٰ میں مزید فوجی دستے اور بحری جہاز بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔\اس سے قبل، مسلم اتحاد قائم کرنے کا خیال ترکی کے صدر رجب طیب اردوان اور پاکستان کے وزیرِ دفاع نے بھی پیش کیا تھا۔ 2024 میں اردوان نے اسرائیل کے ممکنہ توسیع پسندانہ عزائم کا مقابلہ کرنے کے لیے مسلم ممالک کو متحد ہونے کی دعوت دی تھی، جبکہ 2025 میں پاکستان کے وزیرِ دفاع نے 'اسلامی نیٹو' کے قیام کا مطالبہ کیا تھا۔ ماضی میں سعودی عرب کی قیادت میں 34 اسلامی ممالک کے فوجی اتحاد کا قیام عمل میں لایا گیا تھا، جس کی قیادت سابق پاکستانی آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو سونپی گئی تھی۔ اس اتحاد کا مقصد دہشت گردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ بتایا گیا تھا۔ تاہم، اس وقت بھی ایران نے اس اتحاد میں جنرل راحیل شریف کی قیادت پر تحفظات کا اظہار کیا تھا اور خلیجی ممالک کے درمیان موجود تاریخی اختلافات اور علاقائی مفادات کے ٹکراؤ کی وجہ سے اس اتحاد کو عملی جامہ پہنانے میں مشکلات پیش آئیں۔ یمن میں جاری جنگ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اختلافات، اور قطر و امارات کے درمیان ماضی کی کشیدگی، اس کی واضح مثالیں ہیں۔ ان اختلافات کی وجہ سے، ایک نئے اتحاد کے قیام میں بھی بڑی رکاوٹیں متوقع ہیں۔\مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن اور اتحاد کے امکانات پر گہری نظر رکھنے والے مبصرین، 'گلف نیٹو' کے قیام کے امکانات اور اس میں آنے والی رکاوٹوں پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ خلیجی ممالک کی قیادت میں ایک مضبوط فوجی اور دفاعی صنعتی بنیاد قائم کرنے کے اہداف، امریکہ کے ممکنہ ردعمل، اور پاکستان و ترکی کے ساتھ فوجی تعاون کی وسعت جیسے اہم سوالات پر غور کیا جا رہا ہے۔ حمد بن جاسم نے مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جنگ ختم ہو جائے گی، لیکن اس سے سبق حاصل کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے خلیجی تعاون کونسل کو اتحاد اور یکجہتی کے ساتھ ایک مؤثر فوجی و سکیورٹی اتحاد قائم کرنے کی تجویز دی، جس میں سعودی عرب کو مرکزی کردار ادا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے ایران کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ پابندیوں کے باوجود اس نے میزائل صنعت قائم کی، اور اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ انھی میزائلوں سے خلیجی ریاستوں کو نشانہ بنایا گیا۔ حمد بن جاسم نے اسرائیل کو جنگ کا ذمہ دار ٹھہرایا اور خلیجی ریاستوں کو ایران اور اسرائیل دونوں کے خلاف متحد ہونے کی تجویز دی۔ انہوں نے ایران کے ساتھ بات چیت اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو حسنِ ہمسائیگی اور فلسطینی حقوق کے تحفظ کی بنیاد پر استوار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ عرب ریاستیں خلیجی ریاستوں پر حملوں کے باوجود خاموش رہتی ہیں، جو خلیجی ممالک کو فوری طور پر ایک فوجی، سلامتی اور جغرافیائی اتحاد قائم کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ چھوٹے ممالک کی جانب سے بڑی ریاستوں کی قیادت کو چیلنج کرنے اور آپسی اختلافات کی وجہ سے اتحاد اور یکجہتی کیسے ممکن ہو سکتی ہے

We have summarized this news so that you can read it quickly. If you are interested in the news, you can read the full text here. Read more:

BBCUrdu /  🏆 11. in PK

مشرقِ وسطیٰ فوجی اتحاد قطر سعودی عرب جی سی سی

 

United States Latest News, United States Headlines



Render Time: 2026-04-29 12:25:15