Beyond the Breaking News

لنزے گراہم کا پاکستان کی ثالثی پر اعتراض اور ابراہم معاہدے کا مطالبہ

بین الاقوامی تعلقات News

لنزے گراہم کا پاکستان کی ثالثی پر اعتراض اور ابراہم معاہدے کا مطالبہ
لنزے گراہمپاکستانابراہم معاہدہ

امریکی سینیٹر لنزے گراہم نے ایران امریکہ تنازع میں پاکستان کی ثالثی پر سوال اٹھایا اور پاکستان پر ابراہم معاہدے میں شامل ہونے کا دباؤ ڈالا۔ ان کے بیان پر سوشل میڈیا پر تنقید ہو رہی ہے۔

خواجہ آصف کے بیان کا حوالہ اور لنزے گراہم کا اسلام آباد کی ثالثی پر اعتراض: ’ پاکستان نے کبھی اسرائیل کے ساتھ دوستی کا ڈرامہ نہیں کیا‘امریکی سینیٹر لنزے گراہم نے ایران امریکہ تنازع میں پاکستان کی ثالثی پر سوالات اٹھاتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ پاکستان ابراہم معاہدے میں شامل ہونے کے صدر ٹرمپ کے مطالبے کا جواب دے۔ متنازع بیانات کے لیے مشہور امریکی سینیٹر کے اس حالیہ بیان کے بعد سوشل میڈیا پر ان پر خاصی تنقید ہو رہی ہے۔ واضح رہے کہ دو روز قبل بھی لنزے گراہم اپنے ایک ایسے ہی بیان کی وجہ سے تنقید کی زد میں آئے تھے۔ انھوں نے کہا تھا کہ ’ ایران کے ساتھ بات چیت کے ذریعے تنازع ختم ہونے پر اگر نتیجتاً خطے کے عرب اور مسلم اتحادی ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہو جائیں تو یہ مشرق وسطیٰ کی تاریخ کے لیے سب سے موثر معاہدہ ہو گا۔‘ گراہم نے اس سلسلے میں سعودی عرب، قطر اور پاکستان کا ذکر کیا تھا اور اپنے پیغام میں خبردار کیا کہ اگر ان ممالک نے ایسا نہ کیا تو ’ہمارے مستقبل کے تعلقات پر اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔‘گراہم کا یہ بیان سوموار کے روز امریکی صدر ٹرمپ کے اس بیان کے بعد آیا تھا جس میں انھوں نے دیگر ممالک کے معاہدہ ابراہیمی کا حصہ بننے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ یاد رہے کہ ابراہیمی معاہدہ اسرائیل اور بعض عرب ممالک کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کے لیے کیے گئے معاہدوں کا ایک سلسلہ ہے۔ سنہ 2020 میں میں اس معاہدے کے تحت کچھ عرب ممالک نے اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات معمول پر لانے پر اتفاق کیا تھا۔بدھ کے روز امریکی سینیٹر لنزے گراہم نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ’یہ بات کافی عرصے سے واضح ہے کہ ثالث کے طور پر پاکستان بہت بڑا مسئلہ ہے اور اسرائیل سے ان کی دشمنی دیرینہ ہے۔‘ انھوں نے لکھا کہ ’یہ بات ناقابل تردید ہے کہ ایران ی فوجی طیارے پاکستان ی فضائی اڈوں پر موجود ہیں اور پاکستان کے اعلیٰ ترین حکام کی اسرائیل کے خلاف ماضی کی بیان بازی بھی پریشان کن ہے۔‘ عید الاضحیٰ: گرم موسم اور ’اناڑی قصائیوں‘ کی وہ غلطیاں جو قربانی کے گوشت کو خراب اور بدبودار کر سکتی ہیں غزہ اور لبنان پر اسرائیل کے حملے، 34 افراد ہلاک: اسرائیل کا حماس کے عسکری ونگ کے سربراہ محمد عودۃ کو ہلاک کرنے کا دعویٰ انڈیا میں عید الاضحی پر بڑے جانوروں کے ذبیحے پر پابندیاں: ’قربانی نہ ہونے سے مسلمانوں کا اتنا نقصان نہیں جتنا کہ ہندو بھائیوں کا ہے‘بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیںیاد رہے کہ 12 مئی کو امریکی کانگریس میں ہونے والی ایک اہم سماعت کے دوران لنزے گراہم نے امریکی سیکریٹری دفاع پیٹ ہیگستھ اور امریکہ کے جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل ڈین کین سے سوال کیا تھا کہ آیا وہ اِن رپورٹس سے باخبر ہیں کہ ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ جنگ بندی کے دوران پاکستان نے ایران ی طیاروں کو ممکنہ امریکی حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے جگہ دی؟

اس سے قبل امریکہ میں بی بی سی کے پارٹنر ادارے ’سی بی ایس نیوز‘ نے 11 مئی کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ اپریل کے اوائل میں راولپنڈی کے نور خان ایئربیس پر متعدد ایرانی طیارے بھیجے گئے جن میں ایک آر سی 130 طیارہ بھی شامل ہے۔ تاہم پاکستان نے ’سی بی ایس نیوز‘ کے اس دعوے کو ’بے بنیاد، سنسنی خیز اور گمراہ کُن‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کیا تھا۔ ابراہم معاہدے کے بارے میں پاکستانی وزیر خواجہ آصف کے بیان کے بارے میں سینیٹر لنزے گراہم نے اپنے حالیہ بیان میں لکھا کہ ’وزیر دفاع کے ابراہم معاہدے سے متعلق تبصرے کے مطابق پاکستان کبھی بھی اس میں شامل نہیں ہو گا کیونکہ وہ اسرائیل پر بھروسہ نہیں کرتا۔‘ انھوں نے کہا کہ ’اگرچہ یہ کلپ ایک سال پرانا ہو سکتا ہے لیکن مجھے ڈر ہے کہ یہ جذبات اب بھی تازہ ہیں۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ پاکستان ابراہم معاہدے میں شامل ہونے کے صدر ٹرمپ کے مطالبے کا جواب دے۔‘امریکی سینیٹر لنزے گراہم نے ایکس پر اپنے بیان میں پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف کے اسرائیل کے حوالے سے بیان کا ذکر بھی کیا یاد رہے کہ پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف نے اپریل میں اسرائیل پر تنقید کرتے ہوئے اسے ’کینسر زدہ‘ قرار دیا تھا اور الزام عائد کیا تھا کہ ’معصوم شہری اسرائیلی کارروائیوں میں مارے جا رہے ہیں، پہلے غزہ، پھر ایران اور اب لبنان میں خونریزی کا نہ رُکنے والا سلسلہ جاری ہے۔‘ اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر نے اس بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’پاکستان کے وزیرِ دفاع کی جانب سے اسرائیل کی تباہی کی اپیل نہایت اشتعال انگیز ہے۔ یہ ایسا بیان ہے جسے کسی بھی حکومت کی جانب سے قابلِ برداشت نہیں سمجھا جا سکتا، خاص طور پر ایسی حکومت کی طرف سے جو خود کو امن کے لیے غیر جانب دار ثالث قرار دیتی ہو۔‘’تمام ممالک بیک وقت معاہدہ ابراہیمی پر دستخط کریں‘: ٹرمپ کا پاکستان اور سعودی عرب سمیت دیگر اسلامی ممالک سے مطالبہ ٹرمپ نے ایران معاہدہ اسرائیل کو تسلیم کرنے سے کیوں جوڑا اور کیا سعودی عرب اور پاکستان انکار کر سکیں گے؟

لنزے گراہم کی جنگ میں شامل نہ ہونے پر ’ریاض کو دھمکی‘: سعودی عرب امریکی و اسرائیلی فوجی کارروائی کا حصہ بننے سے کیوں گریز کر رہا ہے؟

لنزے گراہم کے حالیہ بیان کے بعد صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر سے لوگ ان پر تنقید کر رہے ہیں جبکہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری اس تنازع کو ختم کرنے کے لیے پاکستان کی کاوشوں کو سراہ رہے ہیں۔ صارف تریتا پارسی نے امریکی سینیٹر کے حالیہ بیان پرتبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’لنزے گراہم نے ہر اس ثالث پر حملہ کیا ہے، جس نے امریکہ ایران تنازع کو حل کرنے کی کوشش کی کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ یہ تنازع حل ہو۔‘ انھوں نے مزید لکھا کہ ’پاکستان کا ثالث ہونا مسئلہ کیوں ہے؟

گراہم نے جو پہلی وجہ بتائی وہ اسرائیل کے خلاف پاکستان کی دشمنی ہے۔‘ ایک امریکی صارف ٹام فورڈی نے لنزے گراہم پر تنقید کرتے لکھا کہ ’وہ ایران کے ساتھ جنگ چاہتے ہیں۔ انھیں پاکستان کی کاوشوں کو سراہنا چاہیے۔ پاکستان اس لیے ثالثی کی کوششں کر رہا ہے کیونکہ اس کے ایران، خلیجی عرب ریاستوں، چین اور امریکہ کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ تو اسلام آباد کے لیے ’ثالثی‘ اور ’اسرائیل کے ساتھ تعلقات‘ دو بالکل مختلف چیزیں ہیں۔‘ ایک اور صارف نے لکھا ’تو کیا پاکستان کو بطور ثالث اپنی کوششوں کو ثابت کرنے کے لیے ابراہم معاہدے میں شامل ہونا چاہیے۔‘ انھوں نے مزید لکھا کہ ’ہر انسان فروخت کے لیے نہیں ہوتا، پاکستان نے کبھی بھی اسرائیل کے ساتھ دوستی کا ڈرامہ نہیں کیا۔ اپنی پوری تاریخ میں اس کا موقف مستقل، واضح اور غیر مبہم رہا۔ پاکستان اس وقت نیک نیتی سے ثالثی میں مصروف ہے جبکہ اسرائیل اسے بگاڑنے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہے۔‘اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Xآصف نامی صارف نے لکھا کہ ’یہ محض دشمنی نہیں بلکہ یہ پاکستان کے مستقل اور اصولی موقف کی عکاسی کرتا ہے: ایک منصفانہ اور دیرپا امن کے لیے اسرائیل کو قبول کرنے سے پہلے سنہ 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر ایک قابل عمل فلسطینی ریاست کا قیام ضروری ہے۔‘ انھوں نے لنزے گراہم کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ ’سینیٹر گراہم اگر آپ کے پاس بنیادی اخلاقی مستقل مزاجی ہوتی تو آپ اسرائیل کے وکیل کے طور پر کام کرنے کے بجائے اس سانحے میں پھنسے فلسطینی بچوں اور خواتین کے لیے آواز اٹھاتے۔‘انھوں نے مزید لکھا کہ ’ابھی جواب دو۔۔۔ یہ انداز سفارت کاری کم اور کسی نوآبادیاتی دور میں رپنے والی ذہنیت کی زیادہ عکاسی کرتا ہے۔‘ ’تمام ممالک بیک وقت معاہدہ ابراہیمی پر دستخط کریں‘: ٹرمپ کا پاکستان اور سعودی عرب سمیت دیگر اسلامی ممالک سے مطالبہ ٹرمپ نے ایران معاہدہ اسرائیل کو تسلیم کرنے سے کیوں جوڑا اور کیا سعودی عرب اور پاکستان انکار کر سکیں گے؟

لنزے گراہم کی جنگ میں شامل نہ ہونے پر ’ریاض کو دھمکی‘: سعودی عرب امریکی و اسرائیلی فوجی کارروائی کا حصہ بننے سے کیوں گریز کر رہا ہے؟ ’اسرائیل سے زیادہ خلیجی ممالک پر میزائل حملے‘: حالیہ جنگ میں ایران کی دفاعی صلاحیت اور حکمت عملی میں کیا تبدیلی آئی؟

خواجہ آصف کے بیان کا حوالہ اور لنزے گراہم کا اسلام آباد کی ثالثی پر اعتراض: ’پاکستان نے کبھی اسرائیل کے ساتھ دوستی کا ڈرامہ نہیں کیا‘ عید الاضحیٰ: گرم موسم اور ’اناڑی قصائیوں‘ کی وہ غلطیاں جو قربانی کے گوشت کو خراب اور بدبودار کر سکتی ہیں غزہ اور لبنان پر اسرائیل کے حملے، 34 افراد ہلاک: اسرائیل کا حماس کے عسکری ونگ کے سربراہ محمد عودۃ کو ہلاک کرنے کا دعویٰ’ایسا لگا جیسے فضا سے بمباری کی گئی ہو‘: کوئٹہ میں شٹل ٹرین پر خودکش حملے کے عینی شاہدین نے کیا دیکھا؟

’میرا بیٹا ڈاکٹر بننے پاکستان گیا تھا‘: مظفرآباد میں قتل ہونے والے حمزہ کو انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں عسکریت پسندی سے کیوں جوڑا جا رہا ہے؟

خواجہ آصف کے بیان کا حوالہ اور لنزے گراہم کا اسلام آباد کی ثالثی پر اعتراض: ’پاکستان نے کبھی اسرائیل کے ساتھ دوستی کا ڈرامہ نہیں کیا‘ عید الاضحیٰ: گرم موسم اور ’اناڑی قصائیوں‘ کی وہ غلطیاں جو قربانی کے گوشت کو خراب اور بدبودار کر سکتی ہیںغزہ اور لبنان پر اسرائیل کے حملے، 34 افراد ہلاک: اسرائیل کا حماس کے عسکری ونگ کے سربراہ محمد عودۃ کو ہلاک کرنے کا دعویٰ انڈیا میں عید الاضحی پر بڑے جانوروں کے ذبیحے پر پابندیاں: ’قربانی نہ ہونے سے مسلمانوں کا اتنا نقصان نہیں جتنا کہ ہندو بھائیوں کا ہے‘ شہباز شریف کا دورۂ چین، مشترکہ اعلامیے میں کشمیر کے ذکر پر انڈیا برہم: ’اٹوٹ انگ پر کسی دوسرے ملک کو تبصرہ کرنے کا اختیار نہیں‘ ’والدہ برسوں سے بھائی کے انتظار میں تھیں‘: سعودی عرب میں انڈین شہری کی دیت کے لیے 34 کروڑ کی رقم کیسے جمع ہوئی؟

کم نمبروں اور غلط پرچے کی شکایت کے بعد طالب علم پر ’پاکستانی‘ اور ملک دشمن ہونے کا الزام: ’کیا پاکستانی بھی انڈین بورڈ کے امتحانات دیتے ہیں؟ ‘

We have summarized this news so that you can read it quickly. If you are interested in the news, you can read the full text here. Read more:

BBCUrdu /  🏆 11. in PK

لنزے گراہم پاکستان ابراہم معاہدہ ایران ثالثی

 

United States Latest News, United States Headlines



Render Time: 2026-05-27 18:39:57