امدادی سامان کی ترسیل پر اسرائیلی فضائی حملے سے خیراتی ادارے اور فلسطینی کارکن پریشان ہیں جس میں غیر ملکی شہریوں سمیت سات افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
اگر ایک انٹرنیشنل پاسپورسٹ رکھنے والے غیرملکی کو بم مار کر ہلاک کیا جا سکتا ہے تو سوچیں وہ ہمارے ساتھ کیا کریں گے؟ ایک فلسطینی نوجوان محمد ابو رجیلا غزہ کی پٹی میں اپنے کام کے متعلق کچھ ایسے الفاظ میں بات چیت کا آغاز کرتے ہیں۔ یہ بات چیت پہلی اپریل کو ایک اسرائیلی حملے میں ورلڈ سینٹرل کچن سات ملازمین کی ہلاکت کے بعد ہو رہی ہے۔ مارے جانے والوں میں برطانوی، پولش، آسٹریلین، فلسطینی اور امریکہ و کینیڈا کی دوہری شہریت رکھنے والا شخص بھی شامل ہے۔ امداری ادارے کا کہنا ہے کہ اکتوبر میں جنگ شروع ہونے سے لے کر اب تک ان کے ساتھ کام کرنے والے 196 فلسطینی کارکنان مارے جا چکے ہیں۔سات اکتوبر کے بعد انھوں نے شہریوں کی مدد اور ان تک امداد پہنچانے کے لیے ’غزہ کے نوجوانوں‘ کے نام سے ایک مہم کا آغاز کیا۔ابو رجیلا کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی امدادی کارکنان کی ہلاکت نے خطرے کو بہت بڑھا دیا ہے۔ وہ محسوس کرتے ہیں کہ امداد پہنچانے کے دوران مقامی افراد کی ہلاکت کا خطرہ اب زیادہ ہو گیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اب کسی کی مدد کے لیے حتیٰ کہ کھانے پینے کا سامان ڈھونڈنے کے لیے بھی ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا پہلے سے زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔ تاہم اس نوجوان کا کہنا ہے کہ یہ خوف ان کے اور ان کے ساتھیوں کے راستے کی رکاوٹ نہیں بن سکتا اور نہ ہی انھیں ان کا کام جاری رکھنے سے روک سکتا ہے۔اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے امدادی کارکنان پر بمباری کو’افسوسناک‘ اور ’غیر ارادی‘ واقعہ قرار دیا ہے۔بین الاقوامی تنظیم پروجیکٹ ہوپ نے جنوب میں رفح اور مرکز دیر البلاح میں انسانی امداد کے لیے کیے جانے والے کاموں کو تین دن کے لیے معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تنظیم کے ہنگامی تیاری اور رسپانس کے ڈائریکٹر آرلان فلر نے بی بی سی کو بذریعہ ای میل ایک بیان میں بتایا کہ ڈبلیو سی کے ٹیم کے ارکان کا قتل پروجیکٹ ہوپ کے تمام کارکنوں کے لیے ہولناک اور غمزدہ کرنے والا تھا۔ انھوں نے بتایا کے ان کے مارے جانے والوں کے ساتھ قریبی تعلقات تھے اور وہ اکثر ہنگامی حالات میں ساتھ کام کرتے تھے۔ انھوں نے کہا کہ ہلاک ہونے والی ڈبلیو سی کے ٹیم میں سے ایک شخص کی غزہ میں ہمارے پروجیکٹ ہوپ کی ٹیم کے ایک رکن سے رشتہ داری تھی۔فلر کا کہنا ہے کہ کارروائیوں کو معطل کرنے کا ان کا عارضی فیصلہ بنیادی طور پر ڈبلیو سی کے کے ساتھ یکجہتی کے ساتھ ساتھ خطرے کی سطح کا از سر نو جائزہ لینے کے لیے بھی تھا۔ انھوں نے کہا کہ ’ڈبلیو سی کے ٹیم کے ارکان پر حملہ غزہ میں امدادی کارروائیوں میں حصہ لینے والوں کے لیے اہم سوالات اٹھاتا ہے، کیونکہ امدادی کارکنوں کی حفاظت کے لیے قائم کیے گئے طریقہ کار کے بارے میں شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔‘ ’ہمیں اس بات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ اسرائیل کی دفاعی افواج امدادی کارروائیوں کو کس حد تک سمجھتی ہے اور ہم اپنی ٹیموں کی حفاظت کے لیے ان پر کس حد تک انحصار کر سکتے ہیں۔‘غزہ میں انٹرنیشنل میڈیکل کور مشن کے ہیلتھ ایڈوائزر زوار علی نے اس بات سے اتفاق کیا کہ ڈبلیو سی کے کارکنوں کی ہلاکت نے سکیورٹی پروٹوکول پر نظرثانی کرنا ضروری بنا دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ تنظیم کے اپنے حفاظتی طریقہ کار ہیں لیکن عملے کی نقل و حرکت کو محدود کرنے کی ضرورت ہے تاکہ انھیں مزید تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ ان کا رفح کے شمال میں ایک فیلڈ ہسپتال ہے جسے انھوں نے شہر کے مغرب میں المواسی کے علاقے میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انھوں نے وسطی غزہ میں دیر البلاح میں ایک دوسرا فیلڈ ہسپتال قائم کرنے والے اپنے منصوبوں کا دوبارہ جائزہ لینے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ علی کا کہنا ہے کہ دیر البلاح میں ایک نئے فیلڈ ہسپتال کی بہت زیادہ ضرورت ہے، خاص طور پر ماں اوں بچوں کی صحت اور بچوں کی دیکھ بھال کے لیے، کیونکہ وہاں بڑی تعداد میں بے گھر افراد موجود ہیں۔شمالی غزہ میں میری ٹائم کوریڈور اور اس کے ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک کے افتتاح کی وجہ سے ڈبلیو سی کے کو اہمیت حاصل ہوئیڈاکٹر بشار مراد جو فلسطین میں ریڈ کراس کے ڈائریکٹر ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر اور طبی عملہ بھی خوفزدہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ طبی قافلوں اور طبی عملے کی حفاظت کے لیے مختلف بین الاقوامی اور قومی اداروں کے ساتھ بات چیت کے باوجود، وہ حفاظتی ضمانتوں کے فقدان کی وجہ سے زخمیوں کو جنوب میں نکال کر شمال لانے سے گریزاں ہیں۔ ڈاکٹر مراد نے کہا کہ ڈبلیو سی کے جیسی گاڑی جس پر پہچان والے نشانات تھے اوروہ اسرائیلی فریق کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کے تحت اپنا کام جاری رکھے ہوئے تھے، اس پر حملہ انسانی امداد کے کارکنوں کے لیے ایک مضبوط پیغام ہے۔اگرچہ غزہ کی زیادہ تر آبادی کئی دہائیوں سے انسانی امداد پر انحصار کرتی رہی ہے، ڈبلیو سی کے نے میری ٹائم کوریڈور اور اس کے ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک کے کھلنے کی وجہ سے تیزی سے اہمیت حاصل کی۔ فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی کے ترجمان عدنان ابو حسنہ کا کہنا ہے کہ ڈبلیو سی کے کی جانب سے کام کی معطلی سے غزہ کے شہری بالخصوص شمال میں بہت لوگ زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔’صرف ایک ہی کام کیا جا سکتا ہے کہ فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی UNRWA کو شمال میں کام کرنے کی اجازت دی جائے تاکہ غزہ میں سب سے بڑی اور بچ جانے والی امدادی تنظیم UNRWA غزہ کے تمام حصوں میں آزادانہ طور پر کام کر سکے۔UNRWA کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے اسے شمالی غزہ میں خوراک کی تقسیم کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ اسے صرف وسطی اور جنوبی غزہ میں کام کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ حسنا نے کہا کہ اسرائیلی پابندی ’قحط کی تشویش کو بڑھا رہی ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مئی تک شمالی غزہ میں وسیع پیمانے پر قحط پھیل جائے گا۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ غزہ میں داخل ہونے والی کسی بھی امداد کو نہیں روک رہا اور اقوام متحدہ کو اس کی تقسیم میں ناکامی کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔ بڑھتے ہوئے بین الاقوامی دباؤ کے بعد اسرائیل نے مارچ میں براہ راست شمالی غزہ تک امداد کی ترسیل کے لیے ایک نیا راستہ شروع کیا، جسے 96 ویں گیٹ کا نام دیا جاتا ہے۔ اسرائیلی وزارت دفاع کے ادارے کوگاٹ کا کہنا ہے کہ 20 مارچ تک کم از کم 86 بین الاقوامی امدادی ٹرک نئی کراسنگ کے ذریعے غزہ میں داخل ہو چکے ہیں۔ ادھر عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ اکتوبر سے اب تک غزہ میں غذائی قلت کے نتیجے میں کم از کم 27 بچے ہلاک ہو چکے ہیں۔ غزہ جنگ کا فیصلہ کُن مرحلہ اور حکومتوں کو درپیش بڑے سوالات: کیا ایران اور حزب اللہ اسرائیل کے خلاف باقاعدہ جنگ شروع کر سکتے ہیں؟اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت روکنے کا مطالبہ: امریکہ اور جرمنی سمیت وہ ممالک جو اسرائیلی فوج کو جدید اسلحہ فراہم کرتے ہیں گوگل کے خلاف انڈین ہائی کورٹ میں کیس: ’گوگل کو کیا مسئلہ ہے اگر بچپن میں میری دادی مجھے نہلاتی تھیں؟‘ جب منگلا ڈیم کی تعمیر نے 80 ہزار افراد کو بے گھر کر دیا: ’ہمیں صرف ایک ہزار روپے مالی معاوضہ دیا گیا‘گوگل کے خلاف انڈین ہائی کورٹ میں کیس: ’گوگل کو کیا مسئلہ ہے اگر بچپن میں میری دادی مجھے نہلاتی تھیں؟‘ اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت روکنے کا مطالبہ: امریکہ اور جرمنی سمیت وہ ممالک جو اسرائیلی فوج کو جدید اسلحہ فراہم کرتے ہیں.
اگر ایک انٹرنیشنل پاسپورسٹ رکھنے والے غیرملکی کو بم مار کر ہلاک کیا جا سکتا ہے تو سوچیں وہ ہمارے ساتھ کیا کریں گے؟ ایک فلسطینی نوجوان محمد ابو رجیلا غزہ کی پٹی میں اپنے کام کے متعلق کچھ ایسے الفاظ میں بات چیت کا آغاز کرتے ہیں۔ یہ بات چیت پہلی اپریل کو ایک اسرائیلی حملے میں ورلڈ سینٹرل کچن سات ملازمین کی ہلاکت کے بعد ہو رہی ہے۔ مارے جانے والوں میں برطانوی، پولش، آسٹریلین، فلسطینی اور امریکہ و کینیڈا کی دوہری شہریت رکھنے والا شخص بھی شامل ہے۔ امداری ادارے کا کہنا ہے کہ اکتوبر میں جنگ شروع ہونے سے لے کر اب تک ان کے ساتھ کام کرنے والے 196 فلسطینی کارکنان مارے جا چکے ہیں۔سات اکتوبر کے بعد انھوں نے شہریوں کی مدد اور ان تک امداد پہنچانے کے لیے ’غزہ کے نوجوانوں‘ کے نام سے ایک مہم کا آغاز کیا۔ابو رجیلا کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی امدادی کارکنان کی ہلاکت نے خطرے کو بہت بڑھا دیا ہے۔ وہ محسوس کرتے ہیں کہ امداد پہنچانے کے دوران مقامی افراد کی ہلاکت کا خطرہ اب زیادہ ہو گیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اب کسی کی مدد کے لیے حتیٰ کہ کھانے پینے کا سامان ڈھونڈنے کے لیے بھی ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا پہلے سے زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔ تاہم اس نوجوان کا کہنا ہے کہ یہ خوف ان کے اور ان کے ساتھیوں کے راستے کی رکاوٹ نہیں بن سکتا اور نہ ہی انھیں ان کا کام جاری رکھنے سے روک سکتا ہے۔اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے امدادی کارکنان پر بمباری کو’افسوسناک‘ اور ’غیر ارادی‘ واقعہ قرار دیا ہے۔بین الاقوامی تنظیم پروجیکٹ ہوپ نے جنوب میں رفح اور مرکز دیر البلاح میں انسانی امداد کے لیے کیے جانے والے کاموں کو تین دن کے لیے معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تنظیم کے ہنگامی تیاری اور رسپانس کے ڈائریکٹر آرلان فلر نے بی بی سی کو بذریعہ ای میل ایک بیان میں بتایا کہ ڈبلیو سی کے ٹیم کے ارکان کا قتل پروجیکٹ ہوپ کے تمام کارکنوں کے لیے ہولناک اور غمزدہ کرنے والا تھا۔ انھوں نے بتایا کے ان کے مارے جانے والوں کے ساتھ قریبی تعلقات تھے اور وہ اکثر ہنگامی حالات میں ساتھ کام کرتے تھے۔ انھوں نے کہا کہ ہلاک ہونے والی ڈبلیو سی کے ٹیم میں سے ایک شخص کی غزہ میں ہمارے پروجیکٹ ہوپ کی ٹیم کے ایک رکن سے رشتہ داری تھی۔فلر کا کہنا ہے کہ کارروائیوں کو معطل کرنے کا ان کا عارضی فیصلہ بنیادی طور پر ڈبلیو سی کے کے ساتھ یکجہتی کے ساتھ ساتھ خطرے کی سطح کا از سر نو جائزہ لینے کے لیے بھی تھا۔ انھوں نے کہا کہ ’ڈبلیو سی کے ٹیم کے ارکان پر حملہ غزہ میں امدادی کارروائیوں میں حصہ لینے والوں کے لیے اہم سوالات اٹھاتا ہے، کیونکہ امدادی کارکنوں کی حفاظت کے لیے قائم کیے گئے طریقہ کار کے بارے میں شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔‘ ’ہمیں اس بات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ اسرائیل کی دفاعی افواج امدادی کارروائیوں کو کس حد تک سمجھتی ہے اور ہم اپنی ٹیموں کی حفاظت کے لیے ان پر کس حد تک انحصار کر سکتے ہیں۔‘غزہ میں انٹرنیشنل میڈیکل کور مشن کے ہیلتھ ایڈوائزر زوار علی نے اس بات سے اتفاق کیا کہ ڈبلیو سی کے کارکنوں کی ہلاکت نے سکیورٹی پروٹوکول پر نظرثانی کرنا ضروری بنا دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ تنظیم کے اپنے حفاظتی طریقہ کار ہیں لیکن عملے کی نقل و حرکت کو محدود کرنے کی ضرورت ہے تاکہ انھیں مزید تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ ان کا رفح کے شمال میں ایک فیلڈ ہسپتال ہے جسے انھوں نے شہر کے مغرب میں المواسی کے علاقے میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انھوں نے وسطی غزہ میں دیر البلاح میں ایک دوسرا فیلڈ ہسپتال قائم کرنے والے اپنے منصوبوں کا دوبارہ جائزہ لینے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ علی کا کہنا ہے کہ دیر البلاح میں ایک نئے فیلڈ ہسپتال کی بہت زیادہ ضرورت ہے، خاص طور پر ماں اوں بچوں کی صحت اور بچوں کی دیکھ بھال کے لیے، کیونکہ وہاں بڑی تعداد میں بے گھر افراد موجود ہیں۔شمالی غزہ میں میری ٹائم کوریڈور اور اس کے ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک کے افتتاح کی وجہ سے ڈبلیو سی کے کو اہمیت حاصل ہوئیڈاکٹر بشار مراد جو فلسطین میں ریڈ کراس کے ڈائریکٹر ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر اور طبی عملہ بھی خوفزدہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ طبی قافلوں اور طبی عملے کی حفاظت کے لیے مختلف بین الاقوامی اور قومی اداروں کے ساتھ بات چیت کے باوجود، وہ حفاظتی ضمانتوں کے فقدان کی وجہ سے زخمیوں کو جنوب میں نکال کر شمال لانے سے گریزاں ہیں۔ ڈاکٹر مراد نے کہا کہ ڈبلیو سی کے جیسی گاڑی جس پر پہچان والے نشانات تھے اوروہ اسرائیلی فریق کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کے تحت اپنا کام جاری رکھے ہوئے تھے، اس پر حملہ انسانی امداد کے کارکنوں کے لیے ایک مضبوط پیغام ہے۔اگرچہ غزہ کی زیادہ تر آبادی کئی دہائیوں سے انسانی امداد پر انحصار کرتی رہی ہے، ڈبلیو سی کے نے میری ٹائم کوریڈور اور اس کے ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک کے کھلنے کی وجہ سے تیزی سے اہمیت حاصل کی۔ فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی کے ترجمان عدنان ابو حسنہ کا کہنا ہے کہ ڈبلیو سی کے کی جانب سے کام کی معطلی سے غزہ کے شہری بالخصوص شمال میں بہت لوگ زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔’صرف ایک ہی کام کیا جا سکتا ہے کہ فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی UNRWA کو شمال میں کام کرنے کی اجازت دی جائے تاکہ غزہ میں سب سے بڑی اور بچ جانے والی امدادی تنظیم UNRWA غزہ کے تمام حصوں میں آزادانہ طور پر کام کر سکے۔UNRWA کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے اسے شمالی غزہ میں خوراک کی تقسیم کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ اسے صرف وسطی اور جنوبی غزہ میں کام کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ حسنا نے کہا کہ اسرائیلی پابندی ’قحط کی تشویش کو بڑھا رہی ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مئی تک شمالی غزہ میں وسیع پیمانے پر قحط پھیل جائے گا۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ غزہ میں داخل ہونے والی کسی بھی امداد کو نہیں روک رہا اور اقوام متحدہ کو اس کی تقسیم میں ناکامی کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔ بڑھتے ہوئے بین الاقوامی دباؤ کے بعد اسرائیل نے مارچ میں براہ راست شمالی غزہ تک امداد کی ترسیل کے لیے ایک نیا راستہ شروع کیا، جسے 96 ویں گیٹ کا نام دیا جاتا ہے۔ اسرائیلی وزارت دفاع کے ادارے کوگاٹ کا کہنا ہے کہ 20 مارچ تک کم از کم 86 بین الاقوامی امدادی ٹرک نئی کراسنگ کے ذریعے غزہ میں داخل ہو چکے ہیں۔ ادھر عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ اکتوبر سے اب تک غزہ میں غذائی قلت کے نتیجے میں کم از کم 27 بچے ہلاک ہو چکے ہیں۔ غزہ جنگ کا فیصلہ کُن مرحلہ اور حکومتوں کو درپیش بڑے سوالات: کیا ایران اور حزب اللہ اسرائیل کے خلاف باقاعدہ جنگ شروع کر سکتے ہیں؟اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت روکنے کا مطالبہ: امریکہ اور جرمنی سمیت وہ ممالک جو اسرائیلی فوج کو جدید اسلحہ فراہم کرتے ہیں گوگل کے خلاف انڈین ہائی کورٹ میں کیس: ’گوگل کو کیا مسئلہ ہے اگر بچپن میں میری دادی مجھے نہلاتی تھیں؟‘ جب منگلا ڈیم کی تعمیر نے 80 ہزار افراد کو بے گھر کر دیا: ’ہمیں صرف ایک ہزار روپے مالی معاوضہ دیا گیا‘گوگل کے خلاف انڈین ہائی کورٹ میں کیس: ’گوگل کو کیا مسئلہ ہے اگر بچپن میں میری دادی مجھے نہلاتی تھیں؟‘ اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت روکنے کا مطالبہ: امریکہ اور جرمنی سمیت وہ ممالک جو اسرائیلی فوج کو جدید اسلحہ فراہم کرتے ہیں
Canada Latest News, Canada Headlines
Similar News:You can also read news stories similar to this one that we have collected from other news sources.
سسرالیوں نے مبینہ طور پر بہو کو عمارت سے نیچے پھینک دیا، ویڈیو سامنے آگئیلاہور کے علاقے نوناریاں چوک کے قریب شالیمار روڈ پر پیش آیا، متاثرہ خاتون مریم کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے
Read more »
غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے قریب ہیں ،امریکی وزیرخارجہامداد کی ترسیل کے لیے غزہ تک سمندری پل کا کام 2 ہفتوں تک شروع ہوجائے گا، انٹونی بلنکن
Read more »
امریکا کا غزہ جنگ بندی کیلئے سیکیورٹی کونسل میں قرارداد لانے کا فیصلہبلنکن نے کہا کہ ہم یرغمالیوں کے معاہدے پر ہر ایک دن کام کر رہے ہیں لیکن ''حقیقی چیلنجز ہیں اور ہم اس پر کوئی ٹائم لائن نہیں لگا سکتے۔
Read more »
ایشوریا رائے کی دبئی میں کروڑوں کی پراپرٹی کا انکشافایشوریا رائے ہر فلم کے لیے بھارتی 10 سے 12 کروڑ روپے معاوضہ وصول کرتی ہیں
Read more »
تائیوان میں 7.4 شدت کا زلزلہ: ’پہاڑ سے پتھر گولیوں کی طرح برس رہے تھے‘تائیوان میں 25 سال میں آنے والے بدترین زلزلے کے ایک روز بعد امدادی کارکن 600 سے زائد پھنسے ہوئے افراد تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
Read more »
غزہ میں شہریوں کا تحفظ نہ کیا تو اسرائیل کی حمایت ترک کرسکتے ہیں، جو بائیڈناسرائیل شہریوں اور امدادی کارکنوں کے تحفظ کے لیے ٹھوس اقدامات کا اعلان کرے، امریکی صدر
Read more »




