واشنگٹن میں امریکی سائنسدانوں کی پراسerious اموات اور گمشدگیوں کے ساتھ ساتھ یو ایف او سازشی نظریات نے وائٹ ہاؤس تک ہلچل مچا دی ہے۔ ارکانِ کانگریس نے اس معاملے کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔
رولر کوسٹر میں خرابی، لوگ 100 فٹ بلندی پر پھنس گئے واشنگٹن : امریکی سائنسدانوں کی پے در پے پراسرار اموات اور گمشدگی وں کے ساتھ ساتھ یو ایف او سازشی نظریات نے وائٹ ہاؤس تک ہلچل مچا دی ہے، ارکانِ کانگریس نے بھی اس معاملے کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ امریکا میں خلائی، دفاعی اور جوہری تحقیق سے وابستہ متعدد سائنسدانوں کی پراسرار گمشدگی وں اور اموات نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے یو ایف او ز اور خفیہ سازشوں کے نظریات کو نئی ہوا دے دی، جس کے بعد معاملہ وائٹ ہاؤس اور کانگریس تک جا پہنچا۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایک صحافی نے وائٹ ہاؤس بریفنگ میں ان واقعات سے متعلق سوال اٹھایا، جس پر بعد ازاں باضابطہ طور پر تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔کے مطابق حالیہ ہفتوں میں یہ دعویٰ تیزی سے پھیلا کہ کم از کم 11 امریکی سائنسدانوں کی گمشدگی یا ہلاکتیں آپس میں جڑی ہوسکتی ہیں، جبکہ بعض حلقوں نے اس کے پیچھے دشمن ممالک یا حتیٰ کہ یو ایف او ز کا ہاتھ ہونے کے شبہات بھی ظاہر کیے۔ یہ نظریات ابتدائی طور پر انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر سامنے آئے، تاہم بعد ازاں دائیں بازو کے میڈیا، پوڈ کاسٹس اور مختلف آن لائن پروگراموں نے انہیں مزید تقویت دی، جس کے بعد امریکی میڈیا نے بھی اس معاملے کو نمایاں کوریج دینا شروع کردی۔ رپورٹس کے مطابق امریکی فضائیہ کے میجر جنرل ولیم “نیل” میک کاسلینڈ رواں برس 27 فروری کو نیو میکسیکو میں اپنے گھر سے پراسرار طور پر لاپتہ ہوگئے تھے۔ وہ اسپیس وہیکلز اور جدید دفاعی ٹیکنالوجی سے متعلق تحقیقی ادارے سے وابستہ رہ چکے ہیں، جس کے باعث ان کی گمشدگی نے یو ایف او کمیونٹی میں بھی سوالات کھڑے کردیے۔ ’ یو ایف او ز‘ سئے مراد Unidentified Flying Objects ہیں۔ مقامی پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تاحال کسی امکان کو رد نہیں کیا گیا، تاہم تحقیقات صرف حقائق کی بنیاد پر آگے بڑھائی جا رہی ہیں۔ اس فہرست میں ناسا جیٹ پروپلشن لیبارٹری سے وابستہ سائنسدان مائیکل ڈیوڈ ہکس، لاپتا ہونے والی سائنسدان مونیکا رضا، ماہر فلکیات کارل گرل مائر، ایم آئی ٹی کے فزسسٹ نونو لوریرو اور دیگر سائنسدانوں کے نام بھی شامل کیے جا رہے ہیں۔ ایک اور نام ایما ایسکرج کا بھی زیر بحث آیا، جو ’’گریویٹی موڈیفکیشن ریسرچ‘‘ پر کام کرنے کا دعویٰ کرتی تھیں۔ ان کی 2022 میں خودکشی رپورٹ ہوئی تھی، تاہم ایک سابق برطانوی انٹیلی جنس افسر نے دعویٰ کیا کہ ایسکرج نے اپنی موت سے قبل پیغام دیا تھا کہ اگر ان کی موت کو خودکشی قرار دیا جائے تو اس پر یقین نہ کیا جائے۔ امریکی سائنسدانوں کی اموات کے معاملے نے اس وقت مزید توجہ حاصل کی جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی اس حوالے سے سوال کیا گیا، جس پر انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے کو دیکھیں گے۔ بعد ازاں ریپبلکن ارکانِ کانگریس نے ایف بی آئی، ناسا، محکمہ توانائی اور دیگر اداروں سے ممکنہ خطرناک تعلق کی تحقیقات کا مطالبہ بھی کردیا۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ ان دعوؤں کے حق میں واضح شواہد موجود نہیں، تاہم سوشل میڈیا، مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد اور غلط معلومات کے دور میں ایسی سازشی تھیوریز تیزی سے عوامی توجہ حاصل کر رہی ہیں۔جرمنی میں ہنر مند افراد کے لیے ملازمت کی بڑی پیشکشیواےای: ماہِ جون کیلیے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا اعلان.
رولر کوسٹر میں خرابی، لوگ 100 فٹ بلندی پر پھنس گئے واشنگٹن : امریکی سائنسدانوں کی پے در پے پراسرار اموات اور گمشدگیوں کے ساتھ ساتھ یو ایف او سازشی نظریات نے وائٹ ہاؤس تک ہلچل مچا دی ہے، ارکانِ کانگریس نے بھی اس معاملے کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ امریکا میں خلائی، دفاعی اور جوہری تحقیق سے وابستہ متعدد سائنسدانوں کی پراسرار گمشدگیوں اور اموات نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے یو ایف اوز اور خفیہ سازشوں کے نظریات کو نئی ہوا دے دی، جس کے بعد معاملہ وائٹ ہاؤس اور کانگریس تک جا پہنچا۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایک صحافی نے وائٹ ہاؤس بریفنگ میں ان واقعات سے متعلق سوال اٹھایا، جس پر بعد ازاں باضابطہ طور پر تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔کے مطابق حالیہ ہفتوں میں یہ دعویٰ تیزی سے پھیلا کہ کم از کم 11 امریکی سائنسدانوں کی گمشدگی یا ہلاکتیں آپس میں جڑی ہوسکتی ہیں، جبکہ بعض حلقوں نے اس کے پیچھے دشمن ممالک یا حتیٰ کہ یو ایف اوز کا ہاتھ ہونے کے شبہات بھی ظاہر کیے۔ یہ نظریات ابتدائی طور پر انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر سامنے آئے، تاہم بعد ازاں دائیں بازو کے میڈیا، پوڈ کاسٹس اور مختلف آن لائن پروگراموں نے انہیں مزید تقویت دی، جس کے بعد امریکی میڈیا نے بھی اس معاملے کو نمایاں کوریج دینا شروع کردی۔ رپورٹس کے مطابق امریکی فضائیہ کے میجر جنرل ولیم “نیل” میک کاسلینڈ رواں برس 27 فروری کو نیو میکسیکو میں اپنے گھر سے پراسرار طور پر لاپتہ ہوگئے تھے۔ وہ اسپیس وہیکلز اور جدید دفاعی ٹیکنالوجی سے متعلق تحقیقی ادارے سے وابستہ رہ چکے ہیں، جس کے باعث ان کی گمشدگی نے یو ایف او کمیونٹی میں بھی سوالات کھڑے کردیے۔ ’یو ایف اوز‘ سئے مراد Unidentified Flying Objects ہیں۔ مقامی پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تاحال کسی امکان کو رد نہیں کیا گیا، تاہم تحقیقات صرف حقائق کی بنیاد پر آگے بڑھائی جا رہی ہیں۔ اس فہرست میں ناسا جیٹ پروپلشن لیبارٹری سے وابستہ سائنسدان مائیکل ڈیوڈ ہکس، لاپتا ہونے والی سائنسدان مونیکا رضا، ماہر فلکیات کارل گرل مائر، ایم آئی ٹی کے فزسسٹ نونو لوریرو اور دیگر سائنسدانوں کے نام بھی شامل کیے جا رہے ہیں۔ ایک اور نام ایما ایسکرج کا بھی زیر بحث آیا، جو ’’گریویٹی موڈیفکیشن ریسرچ‘‘ پر کام کرنے کا دعویٰ کرتی تھیں۔ ان کی 2022 میں خودکشی رپورٹ ہوئی تھی، تاہم ایک سابق برطانوی انٹیلی جنس افسر نے دعویٰ کیا کہ ایسکرج نے اپنی موت سے قبل پیغام دیا تھا کہ اگر ان کی موت کو خودکشی قرار دیا جائے تو اس پر یقین نہ کیا جائے۔ امریکی سائنسدانوں کی اموات کے معاملے نے اس وقت مزید توجہ حاصل کی جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی اس حوالے سے سوال کیا گیا، جس پر انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے کو دیکھیں گے۔ بعد ازاں ریپبلکن ارکانِ کانگریس نے ایف بی آئی، ناسا، محکمہ توانائی اور دیگر اداروں سے ممکنہ خطرناک تعلق کی تحقیقات کا مطالبہ بھی کردیا۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ ان دعوؤں کے حق میں واضح شواہد موجود نہیں، تاہم سوشل میڈیا، مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد اور غلط معلومات کے دور میں ایسی سازشی تھیوریز تیزی سے عوامی توجہ حاصل کر رہی ہیں۔جرمنی میں ہنر مند افراد کے لیے ملازمت کی بڑی پیشکشیواےای: ماہِ جون کیلیے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا اعلان
یو ایف او سائنسیان گمشدگی واشنگٹن وائٹ ہاؤس
United States Latest News, United States Headlines
Similar News:You can also read news stories similar to this one that we have collected from other news sources.
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی، کے ایس ای 100 انڈیکس 173,962 پوائنٹس پر بندپاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں گزشتہ ہفتے زبردست تیزی دیکھی گئی، کے ایس ای 100 انڈیکس 6,118 پوائنٹس کے اضافے سے 173,962 پوائنٹس پر بند ہوا۔ ہفتہ وار کاروبار میں 1.06 بلین حصص کی خرید و فروخت ہوئی جس کی مالیت 72 ارب روپے تھی۔ مارکیٹ کیپٹلائزیشن 549 ارب روپے بڑھ کر 19.166 ٹریلین روپے ہوگئی۔ جمعہ کو انڈیکس 2,258 پوائنٹس اضافے سے 173,983 پوائنٹس پر بند ہوا، 549.8 ملین حصص کا کاروبار ہوا اور 298 کمپنیوں کے حصص بڑھے جبکہ 161 میں کمی آئی۔
Read more »
رولر کوسٹر میں خرابی، لوگ 100 فٹ بلندی پر پھنس گئےمزید پڑھیں
Read more »




