صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس ایران کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے اور اِسے آبنائے ہرمز کھولنے پر آمادہ کرنے کے لیے زیادہ وقت نہیں بچا۔ آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی تیل ذخائر کو تیزی سے کم کیا ہے اور اب ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہو...
دنیا کو ایک ارب بیرل سے زائد تیل کی قلت کا سامنا: پہلے جنگ ختم ہو گی یا عالمی طاقتوں کے سٹریٹجک ذخائر؟
’صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس ایران کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے اور اِسے آبنائے ہرمز کھولنے پر آمادہ کرنے کے لیے زیادہ وقت نہیں بچا‘صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس ایران کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے اور اِسے آبنائے ہرمز کھولنے پر آمادہ کرنے کے لیے زیادہ وقت نہیں بچا۔ جنگ کے ابتدائی تین ماہ کے دوران عالمی منڈی کو ایک ارب بیرل سے زائد تیل کی قلت کا سامنا کرنا پڑا ہے، تاہم دنیا کے مختلف ممالک اپنے پاس موجود تیل کے سٹریٹجک ذخائر اور کچھ حد تک خوش قسمتی کے باعث، اس بحران سے نسبتاً کم نقصان کے ساتھ بچنے میں کامیاب رہے ہیں۔ تاہم اب تیل کی عالمی مارکیٹ کی یہ لچک تیزی سے ختم ہو رہی ہے۔ ماہرینِ معاشیات اور بین الاقوامی ادارے خبردار کر رہے ہیں کہ اگر آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم نہ کی گئی تو جولائی اور اگست میں تیل کی قیمتیں دوبارہ تیزی سے بڑھیں گی، جس سے عالمی معیشت کساد بازاری کے دہانے پر پہنچ سکتی ہے۔ یہاں تک کہ اگر امریکہ و اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ آج ہی ختم ہو جائے اور خلیج فارس میں پھنسا ہوا تیل، گیس اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات عالمی منڈی تک پہنچ بھی جائیں، تب بھی دنیا پہلے جیسی نہیں ہو گی۔ تیل کی سپلائی کی بحالی اور اس عرصے کے دوران ختم ہونے والے سٹریٹجک ذخائر کو دوبارہ بھرنے میں کئی ماہ لگیں گے۔ اس کے علاوہ تیل کے صارفین اور تیل پیدا کرنے والے ممالک دونوں کو ہی ایک نئی حقیقت کے مطابق خود کو ڈھالنے کی قیمت ادا کرنا ہو گی، ایک ایسی نئی حقیقت جہاں توانائی کی آزاد تجارت اب یقینی نہیں رہی ہے۔اس جنگ کے باعث تیل کی قیمتیں تقریباً 60 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئیں ہیں، تاہم یہ سطح ابھی بھی اُن مایوس کُن پیش گوئیوں سے کم ہے، جو جنگ کی ابتدا میں کی گئی تھیں اور جن میں قیمت 200 ڈالر فی بیرل تک جانے کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔ اس صورتحال کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ جنگ سے قبل عالمی منڈی میں تیل کی زائد پیداوار موجود تھی۔ جیسے ہی آبنائے ہرمز بند ہوئی، مغربی ممالک نے جدید تاریخ میں پہلی بار سٹریٹجک تیل ذخائر کی سب سے بڑی فروخت شروع کر دی۔ اس دوران یہ بھی سامنے آیا کہ تیل کی نجی کمپنیوں کے پاس بھی دنیا کے مختلف حصوں میں موجود اپنے ٹینکوں میں خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کے خاطر خواہ ذخائر موجود ہیں۔ دوسری جانب دنیا کے سب سے بڑے تیل کے خریدار ملک چین نے اپنی درآمدات میں نمایاں کمی کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ تاہم بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے سربراہ فاتح بیرول نے خبردار کیا ہے کہ یہ تمام اقدامات محض عارضی حل ہیں۔ کویت پر حملوں میں ایک شخص ہلاک، متعدد زخمی: ’کویت اور بحرین پر براہِ راست اور واضح ذمہ داری عائد ہوتی ہے‘، ایران کرپان کے وار سے 18 سالہ نوجوان کا قتل جس نے برطانیہ کو ہلا دیا: ’مقتول نے مرنے سے پہلے پولیس کو بتایا میں سانس نہیں لے پا رہا‘ علی خامنہ ای کی ’حرم امام رضا میں تدفین‘ کی تیاریاں: ’پاکستان سمیت دنیا بھر سے دو کروڑ افراد کی شرکت متوقع ہے‘ اٹلی میں ’پاکستانی اور افغان‘ تارکین وطن کو وین میں آگ لگا کر قتل کرنے کے الزام میں دو پاکستانی گرفتارجنگ کے ابتدائی تین ماہ کے بعد دنیا کو مجموعی طور پر ایک ارب بیرل تیل کی کمی کا سامنا ہےبی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیںبین الاقوامی توانائی ایجنسی کے سربراہ فاتح بیرول نے کہا کہ ’جب آپ کے پاس آمدنی نہ ہو لیکن کچھ بچت موجود ہو، تو آپ کچھ عرصے تک تو اس بچت میں سے خرچ کر سکتے ہیں، مگر آخرکار یہ بچت ختم ہو جاتی ہے۔ اس وقت دنیا کو بھی تیل کے معاملے میں کم و بیش اسی صورتحال کا سامنا ہے۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’مسئلہ یہ ہے کہ جون کے آخر اور جولائی کے آغاز میں تعطیلات کا سیزن شروع ہو جاتا ہے، اور یہ ایسا وقت ہوتا ہے جب عام طور پر تیل کی کھپت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ ایسے میں جبکہ ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں اور خلیج فارس سے نیا تیل عالمی منڈی میں نہیں آ رہا، تو اس بات کا خطرہ موجود ہے کہ ہم جولائی اور اگست میں ایک سنگین بحران میں داخل ہو سکتے ہیں۔‘ بین الاقوامی توانائی ایجنسی، جو کہ امیر ممالک کی جانب سے خاص طور پر ایسے ہی ایمرجنسی حالات سے نمٹنے، یعنی توانائی بحرانوں کی پیش گوئی اور ان کی روک تھام کے لیے قائم کی گئی ہے، کے سربراہ نے مزید کہا کہ درپیش مسئلے کا واحد حل آبنائے ہرمز کو کھولنا ہے۔ یہ بحران اس قدر سنگین شکل اختیار کر چکا ہے کہ فاتح بیرول نے جمعہ کے روز عالمی اقتصادی استحکام کے ذمہ دار تین دیگر بین الاقوامی اداروں کے سربراہان کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ انتباہی بیان جاری کیا۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ ، عالمی بینک اور عالمی تجارتی تنظیم کے سربراہان کے مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ ’آبنائے ہرمز کے محاصرے کی وجہ سے تیل کی فراہمی غیر معمولی رفتار سے کم ہو رہی ہے۔ اگر سپلائی کی روانی بحال نہ ہوئی تو شمالی نصف کرہ میں گرمیوں کے دوران طلب میں اضافے سے پہلے ہی ذخائر تیزی سے ختم ہونے لگیں گے، جو توانائی کے تحفظ، مارکیٹ کے استحکام اور مجموعی طور پر عالمی معیشت کے لیے خطرہ بن جائے گا۔‘آکسفورڈ انسٹیٹیوٹ برائے توانائی سے منسلک پال ہورسنل کے مطابق موجودہ تیل کا جھٹکا ماضی کے کسی بھی ایسے بحران سے کہیں بڑا ہے ہارورڈ یونیورسٹی سے منسلک میگن او سلیوان ماضی میں جارج ڈبلیو بش انتظامیہ میں مشیر رہ چکے ہیں جبکہ کولمبیا یونیورسٹی کے جیسن بورڈوفباراک اوباما کی انتظامیہ میں مشیر کے فرائض سرانجام دے چکے ہیں۔ ان دونوں کا مؤقف ہے کہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے عالمی تیل منڈی میں خلل ڈالنے سے متعلق جن مختلف منظرناموں پر غور کیا گیا تھا، ان سب میں آبنائے ہرمز کی بندش ایک ایسا عنصر تھا جو ہمیشہ تیل کی قیمتوں کو 200 ڈالر فی بیرل تک لے جاتا اور دنیا کے متعدد ممالک میں وسیع پیمانے پر معاشی کساد بازاری کا سبب بنتا۔ عملی طور پر ابھی تک قیمتیں اس سطح تک نہیں پہنچیں، تاہم وہ لکھتے ہیں کہ ’یہ مکمل طور پر ممکن ہے کہ موجودہ صورتحال محض ایک عارضی وقفہ ہو۔ آئندہ چند ہفتوں میں تیل کے ذخائر ختم ہو جائیں گے، اور اگر اس وقت تک لڑائی بند نہ ہوئی تو قیمتوں میں اضافہ یقینی ہے۔‘آبنائے ہرمز سے مزاحمت کے محور تک: وہ نکات جن کے باعث ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہیںدونوں سابق امریکی مشیروں کا مزید کہنا تھا کہ ’سٹریٹجک تیل کے ذخائر کی فروخت یا کسی بھی نوعیت کے ہنگامی اقدامات دنیا کو درپیش یومیہ تقریباً ڈیڑھ کروڑ بیرل تیل کی کمی کا ازالہ کبھی نہیں کر سکتے۔‘ دوسری جانب آکسفورڈ انسٹیٹیوٹ برائے توانائی کے پال ہورسنل کا کہنا ہے کہ حکومتی مداخلت مستقبل میں مزید مسائل کو جنم دے سکتی ہے۔ اُن کے مطابق، مارکیٹ میں مداخلت، چاہے وہ تیل کی فراہمی کے ذریعے ہو، مالیاتی پالیسیوں کے ذریعے یا حوصلہ افزا بیانات کے ذریعے، غیر حقیقی توقعات پیدا کرتی ہے اور طلب و رسد کے درمیان توازن قائم کرنے کے قدرتی منڈی کے نظام میں خلل ڈالتی ہے۔ انھوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر اس مرحلے پر طلب کو محدود کرنے کے لیے مارکیٹ کے قدرتی عوامل کو مکمل طور پر فعال نہ ہونے دیا گیا تو جب مارکیٹ ناگزیر طور پر اصلاح کی طرف جائے گی، تو یہ عمل کہیں زیادہ تکلیف دہ ثابت ہو گا۔‘آکسفورڈ انسٹیٹیوٹ برائے توانائی سے منسلک پال ہورسنل کے مطابق موجودہ تیل کا جھٹکا ماضی کے کسی بھی ایسے بحران سے کہیں بڑا ہے۔ ادارے کے اندازوں کے مطابق 1978-79 کے بحران کے دوران دنیا کو 64 کروڑ بیرل تیل کی کمی کا سامنا کرنا پڑا تھا جبکہ پہلی خلیجی جنگ کے دوران یہ کمی 42 کروڑ بیرل تھی۔ تاہم موجودہ صورتحال میں یہ خسارہ 1.1 ارب بیرل سے تجاوز کر چکا ہے۔ پال ہورسنل کہتے ہیں کہ ’میں نے کچھ لوگوں کو یہ کہتے سُنا ہے کہ یہ کوئی حقیقی جھٹکا نہیں کیونکہ مارکیٹ نے خود کو اس کے مطابق ڈھال لیا ہے۔ ہاں، مارکیٹ نے بظاہر استحکام دکھایا ہے، لیکن یہ استحکام ذخائر میں نمایاں کمی کی قیمت پر حاصل ہوا ہے۔ یہ حقیقت کہ قلیل مدت میں ذخائر اس کمی کو پورا کرنے کے لیے کافی تھے، اس بات کا مطلب نہیں کہ ہم کسی حقیقی بحران سے دوچار نہیں ہوئے۔‘ ماہرین کے مطابق جب تیل کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہو جائیں اور آبنائے ہرمز بدستور بند رہے، تو طلب اور رسد میں توازن قائم کرنے کا واحد طریقہ قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہی ہو گا۔ پال ہورسنل کے بقول ’میرا اندازہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ ہمیں تین ماہ درکار ہوں گے کہ ہم اس نازک مرحلے تک پہنچ جائیں، اور موجودہ رجحان کو دیکھتے ہوئے ممکن ہے یہ مدت اس سے بھی کم ہو جائے۔‘ ادھر توانائی کی عالمی منڈی پر نظر رکھنے والے ادارے آرگس میڈیا کے چیف اکنامسٹ ڈیوڈ فائفی نے بھی اس تجزیے سے اتفاق کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’اگر جون تک آبنائے ہرمز سے جزوی آمدورفت بحال بھی ہو جائے، تب بھی اتنی بڑی فراہمی میں رکاوٹ کے بعد مارکیٹ میں توازن بحال کرنے کے لیے بلند قیمتوں کو برقرار رکھنا ضروری ہو گا۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’جیسے ہی تیل کے ذخائر اس سطح کے قریب پہنچتے ہیں جہاں سے تیل کی مزید فراہمی ممکن نہیں رہتی، تو قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہو جاتا ہے تاکہ کھپت کو کم کیا جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ پرانی کہاوت آج بھی درست ثابت ہوتی ہے کہ بلند قیمتوں کا بہترین علاج خود بلند قیمتیں ہی ہوتی ہیں۔‘ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جنگ سے قبل عالمی توانائی منڈی کا جو نظام رائج تھا، وہ اب مکمل طور پر بکھر چکا ہے اور اس کی سابقہ شکل میں واپسی ممکن نہیں رہی۔ اُن کے مطابق، حتیٰ کہ تنازعات کے خاتمے کے بعد بھی توانائی پیدا کرنے والے اور استعمال کرنے والے ممالک ہمیشہ نئے تعطل کے خطرات کو اپنی پالیسی سازی، منصوبہ بندی اور اخراجات میں شامل رکھیں گے، جن میں اضافی ذخائر کی تیاری، متبادل پائپ لائنز کی تعمیر، مقامی پیداوار میں اضافہ اور قابل تجدید توانائی کی جانب پیش رفت شامل ہوں گے۔ کیمبرج یونیورسٹی کی توانائی ماہر ہیلن تھامسن نے بلومبرگ پوڈکاسٹ میں کہا کہ ’سعودی عرب اب کبھی بھی آبنائے ہرمز کے ذریعے برآمدات کی صلاحیت کو یقینی نہیں سمجھے گا۔ اسی طرح چین بھی آبنائے ہرمز کے راستے درآمدات کو معمول کا اور یقینی عمل نہیں سمجھے گا۔‘ سابق وائٹ ہاؤس مشیر میگن او سلیوان اور جیسن بورڈوف کے مطابق اب جو نیا عالمی منظرنامہ تشکیل پا رہا ہے، اس میں توانائی کے نظام میں آزاد منڈیوں کا کردار نسبتاً کم جبکہ حکومتوں کا کردار زیادہ اہم ہوتا جا رہا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ توانائی کا تحفظ اب ممالک کی معاشی اور خارجہ پالیسی کا مرکزی نکتہ بن جائے گا۔ ان کے بقول اگرچہ منڈیاں اپنا کردار ادا کرتی رہیں گی، لیکن قومی اور معاشی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے حکومتیں زیادہ کثرت اور فیصلہ کن انداز میں مداخلت کریں گی۔ انھوں نے خبردار کیا کہ ’خطرہ یہ ہے کہ سلامتی میں اضافے کی یہ کوشش توانائی کے نظام کو مہنگا اور کم مؤثر بنا دے گی۔ اس کے ساتھ ہی عالمی معیشت کے حریف بلاکس میں تقسیم ہونے کا عمل بھی تیز ہو سکتا ہے، جہاں توانائی کی تجارت قیمت اور کارکردگی کے بجائے سیاسی اتحادوں اور تزویراتی مقابلے کی بنیاد پر ہو گی۔‘ یہ بھی واضح رہے کہ گلوبلائزیشن سے یہ پسپائی ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے بہت پہلے شروع ہو چکی تھی۔ امریکہ اور چین کے درمیان بڑھتی کشیدگی، یوکرین کے خلاف روس کی جنگ اور ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دنیا کے مختلف ممالک، بشمول امریکہ کے قریبی اتحادیوں، کے ساتھ تجارتی تنازعات اس عمل کے اہم اسباب میں شامل ہیں۔ اس کے نتیجے میں عالمی سطح پر اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے، اور امریکی ماہرِ معاشیات اور نوبیل انعام یافتہ پال کروگمین کے مطابق دنیا کا سب سے بڑا تیل و گیس پیدا کرنے والا ملک ہونے کے باوجود امریکہ بھی اب اپنی موجودہ پالیسی کو برقرار رکھنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔پال کروگمین نے مزید کہا کہ ’دنیا کے سٹریٹجک تیل کے ذخائر ختم ہونے کے قریب ہیں، جبکہ ہمارے اہم ذخائر بھی دباؤ کا شکار ہیں۔ اتحادیوں کی حمایت اور امریکی عوامی رائے بھی کمزور پڑ چکی ہے۔ یہ تمام عوامل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس جنگ کو جلد از جلد ختم کرنا ناگزیر ہے۔‘ آبنائے ہرمز سے مزاحمت کے محور تک: وہ نکات جن کے باعث ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہیں کویت پر حملوں میں ایک شخص ہلاک، متعدد زخمی: ’کویت اور بحرین پر براہِ راست اور واضح ذمہ داری عائد ہوتی ہے‘، ایران کرپان کے وار سے 18 سالہ نوجوان کا قتل جس نے برطانیہ کو ہلا دیا: ’مقتول نے مرنے سے پہلے پولیس کو بتایا میں سانس نہیں لے پا رہا‘
اشرف مارتھ: جب ریاض بسرا نے گوجرانوالہ پولیس کے سربراہ کے قتل سے ’چند منٹ قبل انھیں فون کر کے دھمکی دی‘مغل شہنشاہ اکبر اعظم سال میں 14 عیدیں کیوں مناتے تھے اور انھوں نے گائے کا گوشت حرام قرار دینے کا فرمان کیوں جاری کیا؟
کویت پر حملوں میں ایک شخص ہلاک، متعدد زخمی: ’کویت اور بحرین پر براہِ راست اور واضح ذمہ داری عائد ہوتی ہے‘، ایران کرپان کے وار سے 18 سالہ نوجوان کا قتل جس نے برطانیہ کو ہلا دیا: ’مقتول نے مرنے سے پہلے پولیس کو بتایا میں سانس نہیں لے پا رہا‘ علی خامنہ ای کی ’حرم امام رضا میں تدفین‘ کی تیاریاں: ’پاکستان سمیت دنیا بھر سے دو کروڑ افراد کی شرکت متوقع ہے‘ اٹلی میں ’پاکستانی اور افغان‘ تارکین وطن کو وین میں آگ لگا کر قتل کرنے کے الزام میں دو پاکستانی گرفتار




