Beyond the Breaking News

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ جنگ حل نہیں، سفارتکاری ہی واحد راستہ ہے

بین الاقوامی خبریں News

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ جنگ حل نہیں، سفارتکاری ہی واحد راستہ ہے
بلاول بھٹو زرداریسفارتکاریجنگ

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جنگ بندی کو برقرار رکھنا تمام فریقوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور تناؤ کا حل جنگ نہیں سفارتکاری ہے۔ انہوں نے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی حمایت کا اظہار کیا۔

وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دنیا کے کسی بھی حصے میں جنگ بندی نافذ کرنا کبھی بھی آسان نہیں ہوتا، اور جنگ بندی کو برقرار رکھنا اور توسیع دینا تمام فریقوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اسلام آباد (ویب ڈیسک) – بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ خطے میں بڑھتے ہوئے تناؤ کا حل جنگ نہیں، بلکہ سفارتکاری واحد ممکن راستہ ہے اور ایران اور امریکہ کے درمیان رنجشوں کا خاتمہ سفارتکاری ہی سے ممکن ہے۔ انہوں نے ایک برطانوی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ دنیا کے کسی بھی حصے میں جنگ بندی نافذ کرنا کبھی بھی آسان نہیں ہوتا، اور جنگ بندی کو برقرار رکھنا اور توسیع دینا تمام فریقوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تنازع کو حل کرنے کے لیے مسلسل مذاکرات اور سفارتی تعلقات ضروری ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ تیل کی سپلائی میں خلل دنیا بھر میں مہنگائی کا باعث بن رہا ہے، اور کہا کہ اسلام آباد تمام فریقوں کے ساتھ رابطے میں ہے اور اعتماد سازی کے اقدامات کو آگے بڑھانے کے لیے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے ایران ی اہلکاروں کی واپسی جیسے اقدامات کو مثبت سفارتی پیشرفت قرار دیا۔ بلاول نے مزید کہا کہ حالیہ حملے قابل مذمت ہیں اور امن کی کوششوں کو کمزور کر سکتے ہیں، اور خبردار کیا کہ کسی بھی فریق کی جانب سے جارحیت جنگ بندی کے انتظامات کو کمزور کرتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کی جانب سے کچھ اقدامات نے علاقائی تناؤ میں اضافہ کیا ہے۔ واشنگٹن کی 'آپریشن فریڈم' پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے بلاول نے کہا کہ فوجی طاقت کوئی حل نہیں ہے اور خبردار کیا کہ ہرمز کی تنگ آبنائے میں فوجی سرگرمیوں میں اضافہ صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایران اور امریکہ کے درمیان سفارتی پیشرفت جلد ہی دیکھی جائے گی۔ بلاول بھٹو زرداری نے واضح طور پر کہا کہ علاقائی استحکام کے لیے تمام فریقوں کو تحمل اور اعتدال کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ سے ہی خطے میں امن اور استحکام کے لیے پرعزم رہا ہے اور اس مقصد کے لیے تمام ممکنہ کوششیں جاری رکھے گا۔ وزیر خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ معاشی تعاون اور تجارتی تعلقات کو فروغ دینے سے خطے میں اعتماد سازی میں مدد مل سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایران اور امریکہ دونوں کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتا ہے اور ان کے درمیان مذاکرات کی حمایت کرتا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی اصول پرامن بقائے باہمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کسی بھی ایسے اقدام کی حمایت نہیں کرتا جو علاقائی امن اور استحکام کو خطرے میں ڈالے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تمام فریقوں پر زور دے گا کہ وہ تحمل اور اعتدال کا مظاہرہ کریں اور مذاکرات کے ذریعے تنازعات کا حل تلاش کریں۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لیے اپنی بھرپور کوششیں جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے ہمیشہ سے ہی سفارتکاری اور مذاکرات کو ترجیح دی گئی ہے اور مستقبل میں بھی یہی پالیسی برقرار رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مقصد خطے میں ایک ایسا ماحول پیدا کرنا ہے جہاں تمام ممالک امن اور خوشحالی کے ساتھ رہ سکیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے تمام بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کا احترام کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کسی بھی ایسے اقدام کی حمایت نہیں کرتا جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہو۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے ہمیشہ سے ہی بین الاقوامی امن اور سلامتی کی حمایت کی گئی ہے اور مستقبل میں بھی یہی پالیسی برقرار رہے گی۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے تمام ممالک کے ساتھ دوستی اور تعاون کے تعلقات قائم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مقصد دنیا بھر میں امن اور خوشحالی کا پیغام پھیلانا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے تمام انسانی حقوق کا احترام کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کسی بھی قسم کے امتیازی سلوک کی حمایت نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے ہمیشہ سے ہی انسانیت کی خدمت کی گئی ہے اور مستقبل میں بھی یہی پالیسی برقرار رہے گی.

وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دنیا کے کسی بھی حصے میں جنگ بندی نافذ کرنا کبھی بھی آسان نہیں ہوتا، اور جنگ بندی کو برقرار رکھنا اور توسیع دینا تمام فریقوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اسلام آباد (ویب ڈیسک) – بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ خطے میں بڑھتے ہوئے تناؤ کا حل جنگ نہیں، بلکہ سفارتکاری واحد ممکن راستہ ہے اور ایران اور امریکہ کے درمیان رنجشوں کا خاتمہ سفارتکاری ہی سے ممکن ہے۔ انہوں نے ایک برطانوی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ دنیا کے کسی بھی حصے میں جنگ بندی نافذ کرنا کبھی بھی آسان نہیں ہوتا، اور جنگ بندی کو برقرار رکھنا اور توسیع دینا تمام فریقوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تنازع کو حل کرنے کے لیے مسلسل مذاکرات اور سفارتی تعلقات ضروری ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ تیل کی سپلائی میں خلل دنیا بھر میں مہنگائی کا باعث بن رہا ہے، اور کہا کہ اسلام آباد تمام فریقوں کے ساتھ رابطے میں ہے اور اعتماد سازی کے اقدامات کو آگے بڑھانے کے لیے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے ایرانی اہلکاروں کی واپسی جیسے اقدامات کو مثبت سفارتی پیشرفت قرار دیا۔ بلاول نے مزید کہا کہ حالیہ حملے قابل مذمت ہیں اور امن کی کوششوں کو کمزور کر سکتے ہیں، اور خبردار کیا کہ کسی بھی فریق کی جانب سے جارحیت جنگ بندی کے انتظامات کو کمزور کرتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کی جانب سے کچھ اقدامات نے علاقائی تناؤ میں اضافہ کیا ہے۔ واشنگٹن کی 'آپریشن فریڈم' پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے بلاول نے کہا کہ فوجی طاقت کوئی حل نہیں ہے اور خبردار کیا کہ ہرمز کی تنگ آبنائے میں فوجی سرگرمیوں میں اضافہ صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایران اور امریکہ کے درمیان سفارتی پیشرفت جلد ہی دیکھی جائے گی۔ بلاول بھٹو زرداری نے واضح طور پر کہا کہ علاقائی استحکام کے لیے تمام فریقوں کو تحمل اور اعتدال کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ سے ہی خطے میں امن اور استحکام کے لیے پرعزم رہا ہے اور اس مقصد کے لیے تمام ممکنہ کوششیں جاری رکھے گا۔ وزیر خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ معاشی تعاون اور تجارتی تعلقات کو فروغ دینے سے خطے میں اعتماد سازی میں مدد مل سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایران اور امریکہ دونوں کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتا ہے اور ان کے درمیان مذاکرات کی حمایت کرتا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی اصول پرامن بقائے باہمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کسی بھی ایسے اقدام کی حمایت نہیں کرتا جو علاقائی امن اور استحکام کو خطرے میں ڈالے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تمام فریقوں پر زور دے گا کہ وہ تحمل اور اعتدال کا مظاہرہ کریں اور مذاکرات کے ذریعے تنازعات کا حل تلاش کریں۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لیے اپنی بھرپور کوششیں جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے ہمیشہ سے ہی سفارتکاری اور مذاکرات کو ترجیح دی گئی ہے اور مستقبل میں بھی یہی پالیسی برقرار رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مقصد خطے میں ایک ایسا ماحول پیدا کرنا ہے جہاں تمام ممالک امن اور خوشحالی کے ساتھ رہ سکیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے تمام بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کا احترام کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کسی بھی ایسے اقدام کی حمایت نہیں کرتا جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہو۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے ہمیشہ سے ہی بین الاقوامی امن اور سلامتی کی حمایت کی گئی ہے اور مستقبل میں بھی یہی پالیسی برقرار رہے گی۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے تمام ممالک کے ساتھ دوستی اور تعاون کے تعلقات قائم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مقصد دنیا بھر میں امن اور خوشحالی کا پیغام پھیلانا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے تمام انسانی حقوق کا احترام کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کسی بھی قسم کے امتیازی سلوک کی حمایت نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے ہمیشہ سے ہی انسانیت کی خدمت کی گئی ہے اور مستقبل میں بھی یہی پالیسی برقرار رہے گی

We have summarized this news so that you can read it quickly. If you are interested in the news, you can read the full text here. Read more:

DunyaNews /  🏆 1. in PK

بلاول بھٹو زرداری سفارتکاری جنگ ایران امریکہ مذاکرات خطہ جنگ بندی مہنگائی ہرمز کی تنگ آبنائے

 

United States Latest News, United States Headlines



Render Time: 2026-05-24 15:03:25